سیاست میں ظلم و جبر

تازہ ترین

تازہ ترین

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان وہ پہلے سیاستدان نہیں تھے جنہوں نے اپنے مخالفین پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہوں، ماضی میں اس کی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔ ملک کا پہلا جمہوری وزیر اعظم جسے پھانسی دی گئی، یعنی ذوالفقار علی بھٹو، اس پر بھی بدعنوانی کے الزامات عائد تھے۔

تاہم اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ بدعنوانی ملکی سیاست کا بہت بڑا ناسور ضرور ہے، تاہم ملکی سیاستدانوں پر بدعنوانی کے اتنے الزامات لگے کہ اب انہیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا، بقول شخصے:

الزام سے حاصل بجز الزام نہ ہوگا

بدنام جو ہم ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟

پھر آگے چل کر کرپشن کے الزامات بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے علاوہ دیگر وزرائے اعظم بشمول شاہد خاقان عباسی اور یوسف رضا گیلانی پر بھی عائد کیے گئے۔ 2008 سے 2013 تک ملک کے صدر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے آصف علی زرداری بھی ایسے ہی الزامات کی زد پر آئے۔

خود تحریکِ انصاف جس نے احتساب کا نعرہ لگاتے ہوئے 2018ء میں اقتدار حاصل کیا، اس کے چیئرمین اور ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان پر بھی توشہ خانہ اور دیگر کیسز کی مد میں بدعنوانی اور حقائق چھپانے سمیت دیگر الزامات لگائے گئے۔

تمام تر حقائق سے یہ واضح ہے کہ بدعنوانی کے الزامات اس وقت تک محض الزامات ہی ہوا کرتے ہیں جب تک کہ انہیں قانون کی رو سے ثابت نہ کردیا جائے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مثال ہمارے سامنے ہے جنہیں عدالت نے باضابطہ طور پر نااہل کردیا۔

گزشتہ روز علی امین گنڈا پور کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ جو عمران خان کی وفاقی کابینہ میں وزیرِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان رہے۔

تشویشناک طور پر علی امین گنڈا پور پر اس بار جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ غداری اور دہشت گردی کے ہیں۔ گزشتہ روز انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

استغاثہ نے استدعا کی کہ 15روز کا ریمانڈ دیا جائے۔ سب دفعات شدید نوعیت کی ہیں، ضمانت نہیں ہوسکتی۔ لیک آڈیو میں علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد پر حملہ کرنے اور بزورِ طاقت قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔

پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ موبائل ایپ کسی کی بھی آواز بنا سکتی ہے۔ مقدمہ گولڑہ پولیس اسٹیشن میں درج ہوا، کیا وہاں ٹی وی چل رہا تھا؟ 24 گھنٹوں سے علی امین گنڈا پور پولیس کی حراست میں ہیں۔، کیا تفتیش کی گئی؟

بعد ازاں عدالت نے علی امین گنڈا پور کو 1 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا جبکہ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری، شہباز گل، سینیٹر اعظم سواتی اور دیگر رہنما بھی موجودہ حکومت کے دورِ اقتدار میں گرفتار ہوچکے ہیں جس سے بہت کچھ  واضح ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک کے حقیقی مسائل کا حل نکالیں۔ سیاسی محاذ آرائی کے باعث ملک میں جاری بحران کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آتا جس پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

Related Posts