قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے فروری میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے رپورٹ میں انکوائری کمیٹی نے پولنگ عملے کے غائب ہونے اور دھاندلی کا ذمہ دار ڈی آر او اور آر او کو قرار دے دیاہے۔
رپورٹ کے مطابق 20پریزائیڈنگ افسران کو غائب کروایا گیا، فردوس عاشق اعوان ،ایجوکیشن اور الیکشن کمیشن آفیسرز،اسسٹنٹ کمشنر،وزیراعلیٰ کے ڈپٹی سیکریٹری بھی منصوبہ بندی میں شامل رہے۔
رپورٹ کے مطابق پریزائیڈنگ افسران کی گمشدگی اتفاقیہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت ہوئی ،پریزائیڈنگ افسران کو شناختی کارڈ کی نقول پر بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کا کہا گیا، عملے کو کہا گیا کہ پولیس اور انتظامیہ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی۔
رپورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں تعینات 20 پریزائیڈنگ افسران کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر نتائج کی تبدیلی کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ سامنے آنے والے شواہد ثابت کرتے ہیں کہ ضمنی انتخاب میں صرف پریزائیڈنگ افسران کی غفلت اور بدانتظامی شامل نہیں تھی بلکہ یہ سب کچھ پہلے سے کی گئی منصوبہ بند کے تحت کیا گیا جو اہم محکموں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کاکہنا ہے کہ عوام سے نمائندے منتخب کرنیکا اختیار چھیننے کی کوشش ہو رہی ہے، ڈسکہ میں ووٹ چوری ثابت ہو چکی ہے۔عمران خان استعفیٰ دیکر قانون کا سامنا کریں، آئین، جمہوریت اور عوام دوست تمام سیاسی جماعتوں سے ملکر عوام کو غلام بنانے کا موجودہ حکومت کا سیاہ منصوبہ ناکام بنائینگے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کاکہنا ہے کہ ڈسکہ ضمنی انتخاب انکوائری رپورٹ اب ملک کی عدلیہ کا امتحان ہے۔الیکشن چوری کرنے والوں کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، عدلیہ ایک وزیر اعظم کوصرف تنخواہ نہ لینے پر نکال سکتی ہے یہاں تو آئین توڑا گیا ہے ۔
ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ این اے 75ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کے بارے میں رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع ہے۔الیکشن کمیشن خود بھی بے ضابطگیوں کے ذمہ داران کیخلاف ایکشن لیگا، حکومت بھی ان کیخلاف کارروائی کریگی، دھاندلی کی شکایات کا خاتمہ انتخابی اصلاحات کے ذریعے ہی ممکن ہے مگر اپوزیشن کو الیکشن چوری کرنے کی عادت ہے اسلئے وہ انتخابی اصلاحات سے خوفزدہ ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات روایت ہے ، ہارنے والی جماعت کبھی شکست تسلیم نہیں کرتی لیکن ڈسکہ میں جو ہوا وہ نہایت افسوسناک ہے ۔ موجودہ حکومت نے ملک میں دھاندلی کے الزامات کا خاتمہ کرنے کا عزم کیا ہے لیکن ڈسکہ میں ہونیوالا واقعہ خود حکومت کیلئے بھی ایک امتحان ہے۔
پاکستان میں شفاف الیکشن ایک معمہ بن چکا ہے، حکومت ملک میں دھاندلی کا راستہ روکنے کیلئے اقدامات کرنے کیلئے تیار ہے، اس لئے تمام جماعتوں کو یکسو ہوکر اس مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے اور حکومت کو ڈسکہ واقعہ کے ذمہ داران کو سخت سزاء دیکر مثال بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔