کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں واقع رہائشی عمارت گرنے کے المناک واقعے کو تین دن گزر چکے ہیں، مگر ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا کام تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
ریسکیو ٹیموں کی دن رات کوششوں کے باوجود آپریشن سست روی کا شکار ہے، کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملبے تلے مزید لاشیں موجود ہو سکتی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ایک افسر کے مطابق اب تک 95 فیصد ملبہ ہٹا لیا گیا ہے جبکہ 27 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں 3 بچے، 9 خواتین اور 15 مرد شامل ہیں۔ مزید تین افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں نکالنے کے لیے احتیاط کے ساتھ کارروائی جاری ہے۔
ریسکیو کے دوران دو بار بڑی مقدار میں نقد رقم بھی ملبے سے برآمد ہوئی جسے حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس افسوسناک حادثے میں مہیشوری ہندو برادری کے 20 افراد بھی جاں بحق ہوئے جن کی آخری رسومات موسٰی لین ایدھی سردخانے میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں بلدیہ موچ گوٹھ کے مہیشوری قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
حادثے سے گرد و نواح کی کئی عمارات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقے کی دیگر عمارتوں کو احتیاطاً خالی کروا لیا گیا ہے۔ پولیس نے عمارت کے اطراف کا علاقہ سیل کر کے رکاوٹیں لگا دی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








