نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

 اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نورمقدم کے قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت اور دو ساتھی ملزمان، ان کے گھریلو عملے کے دونوں افراد کو 10 سال قید کی سزا سنائی جسے ایک ہائی پروفائل کیس کیلئے بلاشبہ ایک مثالی اور موزوں فیصلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور تھراپی ورکس کے 6 ملازمین سمیت دیگر تمام افراد کو بری کر دیا گیا۔ 27 سالہ نور مقدم کو اسلام آباد میں گزشتہ برس 20 جولائی کو مجرم کی رہائش گاہ پر قتل اور سر قلم کرنے کے بعد سے یہ کیس ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ 

سابق سفیر پاکستان کی بیٹی نور مقدم کے قتل سے متعلق ہائی پروفائل قتل کیس نے میڈیا میں بہت زیادہ توجہ حاصل کی ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں انصاف کا خیال جب اشرافیہ کو نشانہ بناتا ہے تو بہت زیادہ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، عدالتی فیصلے نے ایک ایسے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جس میں ایک اثر رسوخ رکھنے والا شخص سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ 

دوہری شہریت کے حامل ظاہر جعفر نے گزشتہ سال نور مقدم کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا جو کہ ذاتی تعلقات اور باہمی رنجش کے باعث بدلہ لینے کا معاملہ تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نور مقدم کو گھر میں داخل ہوتے دکھایا گیا اور جب اس نے فرار ہونے کی کوشش کی تو اسے اندر گھسیٹا گیا۔ مختصر یہ کہ ملزم کے خلاف کافی ثبوت موجود تھے۔

انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ نور مقدم قتل کیس نے خواتین پر تشدد، نظامِ انصاف کی عدل فراہم کرنے کی صلاحیت اور متاثرہ افراد کے کردار پر بحث و مباحثے کو تقویت دی۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر ہونے والے بحث مباحثے میں متاثرہ خاتون کے کردار پر تبصرے دیکھنے کو ملے جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔

سماجی و اقتصادی پس منظر سے قطع نظر مردوں کی اجارہ داری پر مبنی پاکستانی معاشرے میں تمام خواتین کی یہی حالت ہے۔ رجعت پسندانہ ذہنیت خواتین کے خلاف جرائم کو ان کے لباس یا کردار سے منسوب کر کے ان کی توہین کرتی ہے، نور مقدم قتل کیس نے ہمیں احساس دلایا کہ نہ صرف نظامِ انصاف اور پولیس کے اداروں میں اصلاحات بلکہ جرائم کا شکار خواتین کے متعلق معاشرے کے روئیے اور نظریات کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی خواتین کو ملک کے نظامِ انصاف اور جرائم کے انسداد میں مستقل مزاجی چاہئے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ تبدیلی کا اشارہ ثابت ہو گا جو فوجداری نظام انصاف کو اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور تمام مقدمات کی سماعت کے لیے فوری اور تیز ردعمل فراہم کرنے پر مجبور کرسکے۔ 

Related Posts