برآمدات کو کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکسٹائل سیکٹر،ہماری برآمدات کا ایک بڑا ذریعہ عالمی کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے بعد سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوکر نیچے کی جانب گامزن ہے۔
پاکستان نہ صرف بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے بلکہ روس یوکرین جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک کی معاشی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے جس کی وجہ سے متعدد مقامی کمپنیوں نے عارضی طور پر اقدام اُٹھاتے ہوئے پیداوار میں 50 فیصد تک کمی کر دی ہے۔
رواں مالی سال جولائی سے دسمبر تک برآمدات میں 5.79 فیصد کمی ہوئی، جبکہ دسمبر میں سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں 16.64 فیصد کمی ہوئی۔ دسمبر کے مہینے میں برآمدات میں 3.64 فیصد کمی ہوئی۔تاجروں کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سستی مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہیں جبکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بے شمار اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ ڈالر کی کمی نے تاجروں کو خام مال اور مشینیں درآمد کرنے سے روک دیا ہے۔ مزید برآں، آسمان کو چھوتی مہنگائی نے اخراجات کو کم کرنے کے لئے لیبر فورس کو برقرار رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔
توانائی کی قلت بھی ایک سنگین مسئلہ دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ گیس کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں اب تک کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ایسی صورت حال میں، کارخانے اخراجات کو کم کرنے اور منافع کو برقرار رکھنے کے لیے کام کو محدود اور اپنی افرادی قوت کو کم کرنے میں بہتری محسوس کررہے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے آنے والے مالی سال میں صنعتی نمو 4 فیصد تک منفی اثر پڑے گا لیکن حکومت کی جانب سے عالمی کساد بازاری کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی برآمدات میں کمی کا نوٹس لیتے ہوئے سفارشات پیش کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم نے وزیر تجارت نوید قمر کی سربراہی میں قائم کمیٹی سے 14 روز میں سفارشات طلب کر لی ہیں۔
حکمران اتحاد کو ایک سنگین مخمصے کا سامنا ہے اور بیرونی مدد کے ساتھ صرف دانشمندانہ پالیسی اقدامات ہی ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔حکومت کو نہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کو مراعات فراہم کرنی ہیں بلکہ اسے لیبر فورس کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں