عسکری کے بعد سیاسی شکست

تازہ ترین

تازہ ترین

ہمارے ہاں پچھلے بیس برسوں کے دوران کچھ خاص قسم کے بیانیوں نے بہت زور پکڑا۔ طرح طرح کے ان بیانیوں میں ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ ہم درسی کتابوں میں اپنی درست تاریخ نہیں پڑھاتے۔ اس حوالے سے کبھی معاشرتی علوم تو کبھی مطالعہ پاکستان پر بھبتیاں بھی کسی جاتی ہیں۔ اس بیانیہ وار کا تعلق چونکہ افغانستان کی جنگ سے تھا لہٰذا افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہونے والی شکست کے نتیجے میں اب یہ بیانیہ وار بھی اپنے انجام سے دوچار ہوگی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جس جدید عالمی نظام اور اس کے قوانین کے مطابق دنیا گزر بسر کر رہی ہے اس میں واقعات سے متعلق اقوام کے سرکاری موقف ان عالمی قوانین سے بچنے بچانے کی کوشش کے آئنہ دار ہوتے ہیں۔ چنانچہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک بھی تاریخی موقف نظریہ ضرورت کے تحت ترتیب دیئے بیٹھے ہیں اور یہی ان کی “آفیشل تاریخ” ہے۔ اگر کسی کو کوئی شک شبہ ہو تو نیو میکسیکو سے متعلق امریکہ کی سرکاری تاریخ بھی دیکھ لے اور آزاد ذرائع سے اس کے حقائق بھی مطالعہ کر لئے جائیں۔ اسی طرح سی آئی اے کی تشکیل کے دوران امریکیوں نے جس طرح مافیا سے پارٹنرشپ کی ہے کیا اس کے حقائق امریکہ کی سرکاری یا درسی تاریخ میں ملتے ہیں ؟ اور تو اور سی آئی اے نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بعض نامی گرامی “مطلوب نازیوں” تک کی اس شرط پر پر جان بخشی کہ وہ سوویت یونین کے خلاف اپنی خدمات فراہم کریں۔ اور یہ خدمات فراہم ہوئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کی درسی تاریخ میں اس کا ذکر ملتا ہے ؟ سو بات یہ نہیں کہ ہم قوم کو سچ نہیں بتاتے۔ دنیا کی ہر قوم کے سامنے سچ آ ہی جاتا ہے لیکن اس قوم کا سرکاری موقف عالمی سیاسی تقاضوں کے مطابق ہی چلتا ہے۔ اور یہ اس جدید دور میں ایک عالمگیر چلن ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ سرکاری تاریخ ہر دور میں ہی ناقابل اعتبار رہی ہے۔

مذکورہ حقیقت انہیں بھی معلوم ہے جنہوں نے تاریخ سے متعلق یہ فرسودہ بیانیہ ہمارے ہاں ایکسپورٹ کیا تھا۔ اور وہ بھی اس سے بخوبی آگاہ ہیں جو اس بیانیے کے پرچار کے لئے ہماری صفوں سے بھاڑے پر دستیاب ہوئے۔ مگر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جھوٹی تاریخ کی بھبتی کسنے والوں کا اپنا بیانیہ ہی جھوٹ پر کھڑا تھا۔ پورا سچ یہ نہیں کہ پاکستان کی درسی کتب میں پیش کی گئی تاریخ خانہ زاد ہے بلکہ یہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک کی سرکاری تاریخ نطریہ ضرورت کے مطابق ترتیب دی جاتی ہے۔ اور کون نہیں جانتا کہ ادھورا سچ بھی جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے۔ پورا سچ بولے بغیر صرف پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ قوم کو اپنی ریاست اور تاریخ دونوں سے بدظن کیا جائے۔ دیسی لبرلز نامی جو طبقہ پچھلے بیس سال کے دوران یہ گھناؤنا کھیل کھیلتا رہا وہ خود “سچ” سے کتنی محبت رکھتا ہے اس کا اندازہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں ان کے موقف سے ہی لگا لیجئے۔ اپنی جس شکست کو خود امریکی میڈیا اور عالمی سطح کے دانشور بلا جھجک شکست ہی مان رہے ہیں اسے شکست ماننے کو دیسی لبرلز اب تک خود کو آمادہ نہ کر سکے۔ نجم سیٹھی جیسے جہاندیدہ شخص نے بھی پچھلے ہفتے اس کڑوی گولی کو کچھ یوں نگلا۔ فرمایا کہ ہمارے ہاں بڑا شور ہے کہ امریکہ کو شکست ہوگئی۔ ہاں ہوگئی شکست۔ لیکن یہ فزیکل شکست ہے سیاسی شکست نہیں۔ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح شکست مان کر بھی اس کا انکار کیا جا رہا ہے۔ نجم سیٹھی تو کسی زمانے میں “بہ بندوق خود” عسکریت پسند بھی رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اس حقیقت سے ناآشنا ہوں کہ کبھی تو فزیکل شکست سیاسی شکست کا پیش خیمہ بنتی ہے تو کبھی سیاسی شکست ہی فزیکل شکست کا سبب بن جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں ہیں لازم و ملزوم۔ مثلا ویتنام کی جنگ میں امریکہ کو سیاسی شکست پہلے ہوئی اور فزیکل شکست بعد میں۔ اور سیاسی شکست بھی اتنی بری کہ اپنے ہی گھر میں اس جنگ کے خلاف شدید سیاسی ردعمل آیا۔ جبکہ سوویت یونین کو فزیکل شکست پہلے ہوئی اور سیاسی شکست بعد میں۔ دنیا کی معلوم تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میدانِ جنگ میں شکست سے دوچار ہونے والا ملک سیاسی شکست سے بچ گیا ہو۔ اس باب میں تو تاریخ اتنی بے رحم ہے کہ بعض فزیکل فاتحین کو بھی سیاسی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مثلا بھارت کو ہی لے لیجئے۔ کشمیر میں فزیکلی وہ 70 سال سے قابض کے طور پر فزیکلی فاتح ہے لیکن اس قضیے کے سیاسی محاذ پر وہ اب بھی فتح کی تلاش میں ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ اظہار کیسے ہوگا کہ امریکہ کو افغانستان میں سیاسی شکست بھی ہوچکی ؟ اگر بغور دیکھا جائے تو یہ اظہار تو دوحہ مذاکرات کے شانہ بشانہ ہی شروع ہوچکا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادی ہی اس مسئلے کے واحد کنٹرولر چلے آرہے تھے۔ دنیا میں افغانستان سے متعلق جہاں بھی جو بھی سرگرمی ہوتی وہ یہی کنٹرولر کیا کرتے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ہٹ کر کسی ملک کی افغانستان سے متعلق کوئی عالمی سرگرمی دکھانے کی جرات ہی نہ ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ اس مسئلے پر امریکہ کو سرے سے کسی عالمی سطح کی اپوزیشن کا ہی سامنا نہیں تھا۔ لیکن دوحہ مذاکرات کا نصف دورانیہ مکمل ہوتے ہی ماسکو میں سرگرمیاں شروع ہوئیں کہ نہیں ؟ افغان سٹیک ہولڈرز ماسکو کے کئی دورے کرچکے۔ اور وہاں روسی چھتری تلے اپنے مستقبل کے حوالے سے کھل کر تبادلہ خیال کرچکے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ گفتگو کے یہ تمام ادوار نہایت خوش اسلوبی سے ہوئے۔ کسی نے ماسکو نہ جانے کی بات ہی نہ کی۔ یہاں تک حامد کرزئی جیسا امریکی کیمپ کا آدمی بھی ماسکو اور بیجنگ کے لئے آج کل رطب اللسان نظر آتا ہے جبکہ اسی زبان سے واشنگٹن کو کھری کھری سناتا بھی نظر آتا ہے۔ کیا کسی کو اس بات میں کوئی شک شبہ ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کے حالیہ برسوں میں واشنگٹن کے ساتھ رشتے بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں ؟ دوحہ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہی امریکہ عملاً شکست کا اعتراف کرچکا تھا۔ چنانچہ یہ اسی شکست کا نتیجہ ہے کہ اب افغانستان کا خلاء ماسکو اور بیجنگ پر کرنے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر روس اور چین ہی وہ ممالک ہیں جو افغان سٹیک ہولڈرز کو بیک وقت قابل قبول ہیں۔ اور یہی بالادستی امریکہ کی بتدریج ہونے والی سیاسی شکست ہے۔ اس شکست کو روکنے کے لئے اب امریکہ اور اس کے بھارت جیسے اتحادیوں کے پاس واحد اختیار یہی بچتا ہے کہ حالیہ سالوں کے دوران اٖفغان داعش کو پال کر اور کابل میں شہریوں کو مسلح کرکے انہوں نے خانہ جنگی کے جو امکانات پیدا کئے ہیں انہیں کامیابی سے عملی شکل بھی دیں۔ وہ افغانستان کو مستقل سلگتا رکھ کر ماسکو اور بیجنگ کو ناکام کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور کریں گے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں زمین پر کوئی ایسی قد آور شخصیت موجود نہیں جس کی چھتری تلے کوئی بڑی شرپسند سرگرمی ہوسکے۔ پھر ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ کو انحصار شمالی افغانستان کے لوگوں پر کرنا پڑے گا اور وہاں روس امریکہ سے زیادہ اثر رسوخ رکھتا ہے۔ سو بظاہر نظر یہی آتا ہے کہ 11 ستمبر کے بعد ماسکو، اسلام آباد اور بیجنگ کی افغانستان کے حوالے سے سرگرمیاں بہت تیزی اختیار کر جائیں گی۔ اور ان تینوں ہی ممالک کا مفاد پر امن افغانستان میں ہے۔ ایشیا کی اٹھان کے اس دور میں پرامن افغانستان اس خطے میں بھارت کے سوا ہر ملک کی ضرورت ہے۔

Related Posts