امن کے نوبل انعام 2025 کی فاتح وینیزویلین اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو نے اپنے نوبل انعام کا ایک حصہ نوبل انعام سے محروم رہ جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کر دیا۔
ماچادو، جو 58 سالہ انڈسٹریل انجینئر ہیں اور اس وقت خفیہ مقام پر زندگی گزار رہی ہیں، کو 2024 میں وینیزویلا کی عدالتوں نے صدارتی انتخاب لڑنے سے روک دیا تھا تاکہ وہ صدر نکولس مادورو کو چیلنج نہ کرسکیں، جو 2013 سے اقتدار میں ہیں۔
روئٹرز کے مطابق فون کال کے دوران، جس کی ریکارڈنگ نوبل کمیٹی نے سوشل میڈیا پر جاری کی، ماچادو نے انعام ملنے پر کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں آپ کی بے حد شکر گزار ہوں، مگر امید کرتی ہوں آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تحریک ہے، یہ ایک پوری قوم کی کامیابی ہے۔ میں تو محض ایک فرد ہوں، یہ انعام میں اکیلے کی مستحق نہیں۔
بعد ازاں انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پیغام میں لکھا کہ میں یہ انعام وینیزویلا کے مظلوم عوام اور صدر ٹرمپ کے نام کرتی ہوں جنہوں نے ہماری جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کیا!
ٹرمپ وینزویلا کے صدر مادورو کے سخت ناقد ہیں اور امریکہ ان چند ممالک میں شامل ہے جو مادورو کی حکومت کو جائز تسلیم نہیں کرتے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے نوبل کمیٹی کے فیصلے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے وینیزویلا پر توجہ دی، حالانکہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں بڑی پیش رفت کا اعلان کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








