پہلگام واقعے پر ’’را‘‘ کی خفیہ دستاویز لیک ہونے کے بعد بھارت کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس رانا اندمان و نکوبار میں جبری بھیج دیے گئے۔ ڈی ایس رانا کے تبادلے کو خفیہ ’’را‘‘ دستاویزات سے جوڑا جا رہا ہے جوکہ ٹی آر ایف نے بھی حاصل کرلی اور تمام دنیا کو دکھا دی۔
ٹیلی گرام سے لیک ہونے والی دستاویز نے جموں اور کشمیر کے پہلگام علاقے میں انڈیا کے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW) سے منسلک مبینہ جھوٹے فلیگ آپریشن پر روشنی ڈالی ہے۔
ٹیلی گرام پر لیک ہونے والی دستاویزات میں سامنے آیا ہے کہ ضلع اننت ناگ میں ایک کارروائی عمل میں لائی جائے گی، میڈیا کو 36 سے 48 گھنٹے پہلے واقعےکی جگہ متحرک کیا جائےگا اور سیاحوں کی آمدورفت کی نگرانی کے بہانے فیلڈ آپریٹرز لگائے جائیں گے۔
ویب سائٹ پر را دستاویزات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملےکے 2 سے 4گھنٹےکے اندر اے آئی سسٹم کے تحت گواہوں کے بیانات لیے جائیں گے، دھندلی ویڈیوز کی مدد سے واقعے کی تصویریں دوبارہ بنائی جائیں گی، مرکزی ہیش ٹیگ کے بجائے 200 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے غلط معلومات کی مہم چلائی جائے گی۔
لیک دستاویز نے ’’را‘‘ کا عالمی سطح پر مذاق بنا دیا اور پہلگام آپریشن کی صداقت پر بھارتی حکومت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔
بھارتی حکومتی تحقیقات کے مطابق لیک فائلز جنرل رانا کے دفتر سے میڈیا تک پہنچیں جس پر جنرل رانا کو فوری طور پر ڈی آئی اے کی سربراہی سے ہٹانے کا حکم جاری کیا گیا۔
جنرل رانا کا تبادلہ اندیمان نکوبار میں کیا گیا جو بیماریوں، تنہائی اور ناکافی سہولیات والا سخت فوجی اسٹیشن ہے۔ جنرل رانا کی بے توقیری اور اختیار سے اس طرح کی بےعزتی کے ساتھ ہٹایا جانا بھارتی قیادت اور سپاہیوں پر ذہنی دباؤ ڈالے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








