معروف وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری کے خلاف اسلام آباد بار کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے جس میں ان کا وکالت کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
بار کونسل میں دائر ریفرنس کے متن کے مطابق ایڈووکیٹ ایمان مزاری ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور وہ سرکاری افسران کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور منفی مہم چلانے میں پیش پیش رہی ہیں۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور ایسی تحریکوں کی حمایت کرنے میں سرگرم ہیں جن کا ایجنڈا اداروں کو کمزور کرنا ہے۔ ریفرنس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان،کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور منظور پشتین کی تحریک کے ساتھ مبینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے دستاویز میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایمان مزاری اپنی وکالت کو بطور ڈھال استعمال کر رہی ہیں، ان کے اقدامات سے وکلاء برادری بدنام ہو رہی ہے اور عوام کا نظامِ انصاف سے اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔
جج کیخلاف ہی کیس کردیا! ایمان مزاری اور چیف جسٹس کے درمیان تنازعہ کی وجہ جانتے ہیں؟
ریفرنس میں سفارش کی گئی ہے کہ ایمان مزاری کا لائسنس فوری طور پر معطل کیا جائے اور انکوائری کے بعد مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔ یہ ریفرنس ایڈووکیٹ عدنان اقبال کی جانب سے دائر کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








