امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سابق صدر کو سزا، ٹرمپ 34 الزامات میں مجرم قرار

تازہ ترین

تازہ ترین

Judge to sentence Trump before inauguration in hush money case

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عدالت نے کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی اور 2016 کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش میں ایک پورن اسٹار کو خاموش رہنے کے عوض رقم کی ادائیگی پر سزا سنادی۔

نیویارک کی جیوری نے ڈونلڈ ٹرمپ پر کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی کے حوالے سے عائد 34 الزامات میں سے تمام کو درست قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو ہر ایک جرم کا مرتکب پایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر پورن اسٹار سٹارمی ڈینیئل کو خاموش رہنے کے عوض ادا کی گئی رقم کو چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں جعل سازی سے متعلق 34 الزامات عائد کیے گئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر ایک جرم پر چار سال کی قید ہو سکتی ہے لیکن زیادہ امکان پروبیشن پر رہائی کا ہے۔

ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے 77 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں ضمانت کے بغیر رہا کیا گیا تھا، یہ امریکا جیسے ملک میں پہلی مرتبہ ہوا ہے جہاں کا صدر دنیا کا سب سے طاقتور شخص ہوتا ہے۔

سزا کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ جیل جانے کی صورت میں بھی وہ اہنے سیاسی حریف جو بائیڈن کا نومبر میں مقابلہ کر سکیں گے۔ٹرمپ کے وکیل ٹوڈ بلانش کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم جلد از جلد فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔

سابق صدر نے فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’میں بہت معصوم انسان ہوں۔ اصل فیصلہ انتخابات والے دن ووٹرز سنائیں گے۔‘ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کو ’دھاندلی زدہ‘ اور ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

Related Posts