ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی سپردِ خاک! ایک نظر ایرانی ڈی فیکٹو لیڈر کی داستان حیات پر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہید ہونے والی ایرانی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر، سابق نیوکلیئر مذاکرات کار اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

علی اردشیر لاریجانی گزشتہ روز 17 مارچ 2026 کو اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔ وہ 67 سال کے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے ان کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا مرتضیٰ لاریجانی اور کئی محافظ بھی شہید ہوئے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیا۔

علی لاریجانی ایران کی انقلابی سیاست کے ایک اہم ستون تھے۔ وہ ایک پرنسپلست (محافظ اصول) سیاستدان، فلسفی اور سابق پاسداران انقلاب کے افسر تھے۔ ان کی شہادت سے ایران کی قیادت میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے خاص طور پر جب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی فروری 2026 میں شہادت کے بعد وہ ملک کے عملی سربراہ بن چکے تھے۔

پیدائش اور خاندانی پس منظر

علی اردشیر لاریجانی کی پیدائش 3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں ہوئی۔ انکے والدین ایرانی تھے جو 1931ء میں رضا شاہ کے دور میں دباؤ کے سبب نجف ہجرت کر گئے تھے لیکن 1961ء میں واپس ایران لوٹ آئے۔ ان کے والد آیت اللہ ہاشم لاریجانی ایک مشہور شیعہ عالم دین تھے۔ خاندان شمالی ایران کے صوبہ مازندران کے شہر آمل سے تعلق رکھتا تھا جو مذہبی اشرافیہ کا حصہ تھا۔

ان کے بھائی بھی نمایاں شخصیات ہیں۔ محمد جواد لاریجانی، فضل لاریجانی، صادق آملی لاریجانی (سابق جوڈیشری چیف اور ایکسپیڈینسی کونسل کے سربراہ) اور باقر لاریجانی (تہران میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر)۔ ان کے چچا عبداللہ جوادی آملی اور کزن احمد توکلی بھی سیاست اور مذہب میں سرگرم رہے۔ لاریجانی نے مرتضیٰ مطہری کی بیٹی فریدہ مطہری سے شادی کی۔ ان کے چار بچے ہیں، جن میں بیٹی فاطمہ اردشیر لاریجانی بھی شامل ہیں (جو امریکہ میں میڈیکل فیلڈ میں کام کرتی تھیں)۔

تعلیم اور ابتدائی زندگی

لاریجانی نے قم کے حوزہ علمیہ میں دینی تعلیم حاصل کی جبکہ آریا مہر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (اب شریف یونیورسٹی) سے کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ تہران یونیورسٹی سے انہوں نے فلسفہ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی (تھیسس: کینٹ کی فلسفہ ریاضی، 1995)۔ ان کے مشیر غلام علی حداد عادل اور کریم مجتہدی تھے۔ انہوں نے امام خمینی کے مشیر مرتضیٰ مطہری سے مشورہ کر کے فلسفہ کا انتخاب کیا۔

وہ مغربی فلسفہ کے ماہر تھے اور امام نوئیل کینٹ، ساول کرپکے اور ڈیوڈ لیوس پر کتابیں لکھیں۔ تہران یونیورسٹی کے ادب اور انسانیات کے شعبے میں فیکلٹی ممبر بھی رہے۔ ان پر ڈینگ شیاو پنگ کے ماڈل کا بھی اثر تھا۔

فوجی اور ابتدائی سیاسی کیریئر

1981 میں لاریجانی نے اسلامی انقلابی گارڈز کارپس (IRGC) جوائن کیا اور ایران-عراق جنگ (1980-1988) میں حصہ لیا۔ وہ بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہے اور 1993 تک فوج سے منسلک رہے۔

سیاسی طور پر ان کا آغاز 1980 کی دہائی سے ہوا۔ وہ وزارت مزدور اور سماجی امور کے ڈپٹی منسٹر اور وزارت اطلاعات و مواصلات کے ڈپٹی منسٹر رہے۔ 1992-1994 میں اکبر ہاشمی رفسنجانی کی حکومت میں وزیر ثقافت و اسلامی رہنمائی رہے۔ 1994 سے 2004 تک انہوں نے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB (اسلامک ری پبلک آف ایران براڈکاسٹنگ) کے سربراہ کے طور پر 10 سال خدمات انجام دیں۔

عروج: پارلیمنٹ اسپیکر اور نیوکلیئر مذاکرات کار

2005 میں لاریجانی نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور 5.83 فیصد ووٹ (تقریباً 17 لاکھ) حاصل کرکے چھٹے نمبر پر رہے۔ احمدی نژاد فاتح بنے۔

اگست 2005ء میں انہیں سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا (2007ء تک)۔ اس عہدے پر انہوں نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے مذاکرات کی قیادت کی۔ وہ احمدی نژاد کی سخت پالیسیوں سے مختلف، پراگمیٹک (عملی) نقطہ نظر کے حامی تھے اور یورپی یونین کے نمائندہ Javier Solana سے بات چیت کرتے رہے۔

2008 میں وہ قم سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور 28 مئی 2008 سے 2020 تک ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کے اسپیکر رہے۔ تین بار (2008، 2012، 2016) دوبارہ منتخب ہوئے۔ اس دوران وہ پرنسپلست گروپ سے وابستہ رہے اور ملک کے قانون ساز ادارے کی قیادت کی۔ 2020 میں محمد باقر قالیباف نے ان کی جگہ لی۔

2020 سے وہ ایکسپیڈینسی ڈسکرنمٹ کونسل کے رکن بھی تھے۔2021 اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں گارڈین کونسل نے انہیں نااہل قرار دیا جس پر کنزرویٹو اور ریفارمسٹ دونوں حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا گیا۔

دوبارہ سلامتی کونسل سیکرٹری اور آخری ایام

اگست 2025 میں صدر مسعود پیزشکیان نے انہیں دوبارہ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کا سیکرٹری بنایا۔ فروری 2026ء میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد لاریجانی ایران کے ڈی فیکٹو لیڈر بن گئے۔ وہ 2025-2026 کے احتجاجوں کو کچلنے اور جنوری 2026 کے واقعات میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ امریکہ نے ان پر پابندیاں عائد کیں۔

جون 2025 میں ایران-اسرائیل جنگ شروع ہونے پر انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ، اسرائیل یا اتحادی حملہ کریں تو ایران نیوکلیئر ہتھیار تیار کرے گا۔ وہ قومی سلامتی اور نیوکلیئر مذاکرات کے سربراہ رہے۔

شہادت اور اثرات

17 مارچ 2026 کی رات تہران کے نواحی علاقے (بعض ذرائع کے مطابق بیٹی کے گھر یا اجلاس کے دوران) اسرائیلی ایئر سٹرائیک میں علی لاریجانی شہید ہو گئے۔ ایرانی میڈیا نے اسے شہادت قرار دیا۔ ان کی شہادت ایران کی قیادت میں بڑا دھچکا ہے اور جنگ کے دوران قومی اتحاد کی ضرورت کو مزید اجاگر کر رہی ہے۔

علی لاریجانی ایک پراگمیٹک کنزرویٹو سیاستدان تھے جو مغربی دباؤ کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے مگر اندرونی طور پر اعتدال پسند تھے۔ ان کی موت سے ایران کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ختم ہو گیا۔ ایران نے انتقام کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ واقعہ ایران-اسرائیل تنازع کو نئی شدت دے رہا ہے۔

Related Posts