لائبہ کیسے خود کش بمبار بننے پر راضی ہوئی؟ جانیے بی ایل اے کی گرفتار دہشتگرد کی داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے کالعدم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی مبینہ خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے گرفتار خاتون کی معلومات پر سیکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کی بدولت کئی معصوم جانیں بچائی جا سکیں۔

کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دہشتگرد ایک نوجوان لڑکی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور خضدار سے گرفتار ہونے والی لائبہ اس منصوبے کا حصہ تھی۔

لائبہ نے پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کیا کہ جولائی میں اس کا رابطہ تحریکِ طالبان پاکستان کے کمانڈر ابراہیم سے ہوا جس نے اسے ذہنی طور پر خودکش حملے کے لیے تیار کیا۔ لائبہ نے بتایا کہ اسے کمانڈر دل جان کے ذریعے بی ایل اے کمانڈر کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ کے پاس تربیت کے لیے بھیجا جانا تھا تاہم خضدار پہنچتے ہی اسے سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔

گرفتار خاتون لائبہ نے اپنے بیان میں پچھتاوے کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کسی بھی دہشتگرد سرگرمی کا حصہ نہیں بنے گی۔ ساتھ ہی اس نے دیگر نوجوان لڑکیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے بہکاوے میں نہ آئیں۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ قوم غیرت مند ہے اور دہشتگرد تنظیمیں اس غیرت کا غلط استعمال کر کے خواتین کا استحصال کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان حکومت کی ترجیح نوجوانوں کو دہشتگردی اور انتہا پسندی سے محفوظ رکھنا ہے۔ صوبے میں میرٹ پر بھرتیاں جاری ہیں اور اب تک 12 ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتی کی جا چکی ہے۔

Related Posts