بلوچستان میں سیلابی صورتحال

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک میں مون سون بارشوں نے متعدد علاقوں میں تباہی مچادی، خاص طور پر بلوچستان میں صورتحال بہت زیادہ خراب ہے، گزشتہ چند دنوں میں بارشوں کے باعث بلوچستان میں 65 افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

ملک میں بارشوں کے باعث ہونے والی تباہی سے فرسودہ انفراسٹرکچر کا نظام کھل کر سامنے آگیا ہے، بارشوں کے باعث بے گناہ لوگوں کی ہلاکت نے بہت بڑا سوالیہ نشان پیدا کردیا ہے۔

بلوچستان کے کچھ علاقوں میں مسلسل اور تیز بارش نے سیلابی صورتحال پیدا کردی، جس سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، جس کے نتیجے میں گاڑیاں بہہ گئیں اور کم ازکم چار بند مکمل طور پر بہہ گئے۔ بارشوں کے باعث کئی مکانات منہدم ہوگئے اور کئی معصوم موت کے منہ میں چلے گئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل تھے جو کہ بے گھر ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے ہر سال جولائی اور اگست کے مہینے میں بارشوں کا ہائی الرٹ جاری کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے یہی وجہ ہے کہ مون سون کے موسم کی وجہ سے کئی لوگوں کی اموات کی اطلاع ملتی ہے۔

اعلیٰ حکام کیلئے سب سے پہلا کام نکاسی آب کا بہترین نظام نصب کرنا ہونا چاہیے لیکن افسوس ہم اس مقصد کے حصول سے بہت زیادہ دور ہیں ۔ گزشتہ دنوں ہونے والی بارشوں کے باعث ملک میں کئی پُل ٹوٹ گئے، کئی عمارتیں مکمل طور پر گر گئیں جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بھی بہت زیادہ نقصان ہوا۔

حالیہ دنوں میں بارشوں کے باعث ہونے والی ہلاکتوں نے حکومت کی کارگردگی پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں کیونکہ حکومت بارشوں سے شہریوں کومحفوظ رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت کو طوفانی بارش کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مناسب حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔ واضح رہے اگر ہم نے اب بھی بارش اور سیلابی صورتحال سے خود کو نہ بچایا تو حالات مزید بدتر ہوجائیں گے۔

Related Posts