ڈرگز ڈیلر انمول عرف پنکی کو سرکاری اعزاز سے نوازا جائے! فیصل واوڈا کے مطالبے نے ہلچل مچادی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں سامنے آنے والے پنکی منشیات اسکینڈل نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے جبکہ اس معاملے پر سینیٹر فیصل واوڈا کا سخت اور طنزیہ ردعمل بھی توجہ کا مرکز بن گیا۔ انہوں نے نہ صرف موجودہ حکمران طبقے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ نظام پر ایسے سوالات اٹھائے جنہوں نے سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے حکمران طبقے پر تنقید کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ آخر منشیات فروشی میں ملوث پنکی کو سرکاری اعزاز کب دیا جائے گا کیونکہ اب شاید وہ اس مقام تک پہنچ چکی ہے۔

کراچی میں منظرِ عام پر آنے والے انمول المعروف پنکی منشیات کیس پر ردعمل دیتے ہوئے فیصل واوڈا نے موجودہ حکومتی نظام اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب صرف یہی دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ اس خاتون کو کب کوئی بڑا اعزاز دے دیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ نظام میں شاید وہ اس کی اہل سمجھی جانے لگی ہے۔

فیصل واوڈا نے غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد سے آج تک وہی سوچ اور وہی کردار اقتدار پر قابض ہیں جنہوں نے ایک عام خاتون کو پنکی جیسی علامت بنا دیا۔

ان کے مطابق انہی حکمرانوں نے ملک کے نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ان عناصر کا حقیقی احتساب نہیں ہوگا تب تک یہ نام نہاد جمہوری تماشا اسی طرح جاری رہے گا۔

سینیٹر واوڈا نے موجودہ سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلے عوامی نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی سے کروائے جائیں اور سیاسی مخالفین پر بے بنیاد الزامات لگائے جاتے رہیں تو ملک ترقی کی راہ پر نہیں چل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی کارکردگی کی ناکامی چھپانے کے لیے اشتہاری مہم چلانا، من گھڑت کہانیاں بنانا اور زبردستی عوامی اجتماعات منعقد کروانا کسی بھی صورت ملکی بہتری کا سبب نہیں بن سکتا۔

اپنے مخصوص اور طنزیہ انداز میں انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تو صرف اسکینڈلز کی شروعات ہیں ابھی آگے مزید حیران کن معاملات سامنے آئیں گے جنہیں دیکھ کر لوگ دنگ رہ جائیں گے۔

Related Posts