معاشی بحالی کا پلان بی

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے رواں ماہ ختم ہونے والے فنڈ پروگرام کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل معاشی بحالی کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، تاہم اس دوران معاشی بحالی کا پلان بی بھی سامنے آگیا۔

تاحال عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کیلئے واضح طور پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا سے ذاتی ملاقات کی اور فنڈز فوری جاری کرنے کا کہا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے گفتگو کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی مشاورت کے مطابق تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں جبکہ آئی ایم ایف پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی زیرِ قیادت کام کرنے والی معاشی ٹیم سے ناراض اور وفاقی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔

ان تمام نکات کے تناظر میں آئی ایم ایف پروگرام کے رواں برس ستمبر سے قبل یا اگلے انتخابات کے انعقاد تک دوبارہ بحالی کے کوئی آثار نہیں ہیں جبکہ حکومت نے معاشی بحالی کے پلان بی پر عملدرآمد کا اعلان کردیا ہے، کیونکہ اب پاکستان کے پاس دوست ممالک اور دو طرفہ شراکت داروں سے مالی امداد کی درخواست کرنے کے سوا معاشی بحالی کا کوئی راستہ نہیں۔

اب تک حکومت پیرس کلب جیسے پرائیویٹ قرض دہندگان تک رسائی میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے جبکہ پاکستان کو فوری طور پر 3 سے 4 ارب ڈالر کے فنانسنگ فرق کو برابر کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو امید تھی کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے امداد کے وعدے آئی ایم ایف معاہدے سے منسلک کرچکے ہوں گے۔

حا ہی میں چین نے پاکستان کو دئیے گئے 1 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کرنے اور تجارتی قرضوں کو ری فنانس کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ حکومت قرض دہندگان کے ساتھ تمام وعدے پورے کرنے اور ادائیگیوں میں ڈیفالٹ نہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے پاس کوئی پلان بی سرے سے موجود ہی نہیں کیونکہ دوست ممالک آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پہلے بھی پاکستان کی مدد کرنے سے قاصر تھے اور اب بھی ان کی پاکستان سے یہی درخواست ہوگی کہ پہلے آئی ایم ایف سے رجوع کریں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ آئی ایم ایف حکومت کو بلیک میل نہ کرے، کیا آئی ایم ایف سری لنکا جیسی صورتحال پیدا کرنے کے بعد ہی ہم سے مذاکرات کرے گا؟جبکہ اس دوران ملک کی سول اور عسکری قیادت اقتصادی بحالی کے منصوبے (ایس آئی ایف ای) یعنی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی بیلٹیشن کونسل قائم کرچکی ہے۔

صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی اقتصادی پالیسیاں وضع کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کیلئے وزیر اعظم کی زیرِ قیادت اعلیٰ سطحی کمیٹی کا حصہ بن گئے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے تمام تر راستے تلاش کرے۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ آنے والے ڈیفالٹ پر معاشی ماہرین کے خدشات حقیقی ہیں۔ آئی ایم ایف یا دوست ممالک سے اگر اب بھی فنڈز نہ ملے تو صورتحال مزید سنگین رُخ اختیار کرسکتی ہے۔ انتخابی سال کے دوران حکومت سیاسی اخراجات کے باعث مزید خطرات مول لینے کی متحمل نہیں ہوسکتی، کیونکہ حکومت کے پاس معاشی بحالی کا کوئی پلان سی نہیں ہے۔

Related Posts