تعلیمی اداروں کی من مانیاں عروج پر‘ والدین کو فیس وصولی کے نوٹسز جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

تعلیمی اداروں کی من مانیاں عروج پر‘ والدین کو فیس وصولی کے نوٹسز جاری
تعلیمی اداروں کی من مانیاں عروج پر‘ والدین کو فیس وصولی کے نوٹسز جاری

راولپنڈی:جڑواں شہروں کے نجی تعلیمی اداروں نے ماہانہ فیس کے حوالے سے فیصلے سے قبل ہی اپنی اپنی کمائی برقرار رکھنے اور کرونا وائرس کی وبا کے باعث فائدہ اٹھانے کے لئے فوری طور پر تمام والدین کو ہرحال میں پیسے جمع کروانے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

والدین کو واٹسپ ای میل اور ٹویٹر کے ذریعے فیس واؤچر کی تصویر بنا کر بھجوانی شروع کر دی ہے،والدین پر لازم کر دیا گیا ہے کہ وہ فیس واؤچر کی بھجوائی گئی تصویر کا پرنٹ لیں اور پھر اس کو جمع کروا کر اطلاع دیں۔

تعلیمی اداروں نے فیس واؤچرز میں ماہانہ فیس کے علاوہ جرنیٹر اسٹیشنری اور ہیلتھ کی نئی مراعات شامل کرکے ماہانہ خرچہ پانچ سے بیس ہزار بڑھادیا ہے۔

نجی اسکولوں کی من مانیوں نے جڑواں شہروں میں چلنے والے تعلیمی اداروں جن میں تمام چھوٹے بڑے اسکول شامل ہیں انہوں نے ایکا کرتے ہوئے کورونا وائرس کی پیچیدہ اور خطرناک صورتحال کو اپنے لئے نئی کمائی کا ذریعہ بنالیا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے والدین کو کہا جا رہا ہے کہ ٹیچر آن لائن کورس شروع کروا رہے ہیں،والدین بچوں کو پابند کریں کہ وہ اپنی اسٹڈی شروع کریں،اسی طرح فیس واؤچر کا پرنٹ لے کر فیسیں بھی فوری طور پر جمع کروائیں۔

حیران کن اور انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ راولپنڈی میں ایک بڑے نام والے اسکول میں والدین کو اپنی اسکول شاپ سے کتابیں کاپیاں بیگ خریدنے کا پابند کر دیا ہے،جبکہ ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں چلنے والے اسکول نے والدین کو فیس جمع کروانے کے ساتھ دیگر لوازمات پورے کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

نجی اسکولوں کی من مانیوں نے والدین کو مشکل میں ڈال دیا ہے،والدین کا کہنا ہے کہ پورا شہر لاک ڈاؤن ہے کہاں سے پرنٹ لیں۔ بینک میں فیس جمع کروانے میں پہلے لائن میں لگتے تھے اب تو چھ فٹ کے فاصلے کے باعث کئی کلومیٹر کی لائن لگے گی گھر سے نکلیں تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے باہر نکلنے نہیں دیتے۔

یہ سب خرابی اس وقت ہوئی جب وفاق اور پنجاب حکومت نے ماہانہ فیس کے حوالے سے اجلاس کیا،جس کے بعد نجی سکولوں نے صلاح مشورے کے بعد ایکا کرتے ہوئے والدین پر نیا بم گرا دیا ہے۔

انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں محکمہ ایجوکیشن کو بھی شکایت کی گئی مگر کوئی بھی ایکشن نہیں ہو رہا،بچے گھروں میں ہیں مگر ان پر خرچہ ڈالنے کے بعد نئے ٹیکس بھی لگا دیے گئے ہیں۔

نجی اسکولوں کی اس لوٹ مار پر حکومت کو سخت ترین ایکشن لینا چاہیے، انہیں تو احساس نہیں ہو رہا،والدین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سے اس حوالے سے سخت ترین نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Related Posts