الیکشن ترمیمی بل منظور، اپوزیشن سراپا احتجاج، ایوان سے واک آؤٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

سینیٹ
(فوٹو: سینیٹ)

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے الیکشن ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس پر اپوزیشن سراپا احتجاج ہے، اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن ترمیمی بل کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 140 میں ترامیم کی گئیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بل کی منظوری آئین کی دفعہ 75 کے تحت دی ہے۔

نئی ترامیم کے نتیجے میں الیکشن ٹریبونل میں اگر کسی حاضر سروس جج کو تعینات کیا جاتا ہے تو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کرنا ہوگی۔ صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد الیکشن ترمیمی بل قانون بن گیا۔

گزشتہ ماہ الیکشن ترمیمی بل قومی اسمبلی سے 28 جون جبکہ ایوانِ بالا سے 8 جولائی کو منظور ہوا۔ اپوزیشن نے الیکشن ایکٹ منظوری کے بعد بھرپور احتجاج کیا اور کالا قانون نامنظور کے نعرے بھی لگائے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے بل کی نقول بھی پھاڑ ڈالیں۔ پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اراکین بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوانِ بالا سے واک آؤٹ کرگئے۔ سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ بل آئین کے خلاف ہے۔

تحریکِ انصاف کے سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن ترمیمی بل 2024 غیر منتخب لوگوں کو طاقت میں رکھنے کیلئے لایا گیا ہے۔ بس، بہت ہوگیا۔ ہم اس سازش کو بے نقاب کریں گے۔

 

Related Posts