سپر پاور کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق امریکی صدر باراک اوباما اور امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے برپا کردہ ناکام عرب سپرنگ کو بڑا دھچکا اس وقت لگا تھا جب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ برسر اقتدار آگئے۔

اوباما پلان کے مطابق مشرقِ وسطی کا اگلا نقشہ یہ بننا تھا کہ عرب ممالک کو داخلی انتشار کا شکار کرکے کمزور کردیا جاتا۔ اور خطے پر ایران کی قیادت میں شیعہ ممالک کو بالادستی دے کر 21 ویں صدی کے باقی ماندہ حصے میں اس نئے کیمپ کے تیل کے مزے لئے جاتے۔ ایران کے ساتھ مغربی ممالک کا معاہدہ اسی سمت میں اہم قدم تھا۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے آتے ہی اس معاہدے کو کوڑے دان میں پھینک دیا اور عرب ممالک کو ایک بار پھر قریب کر لیا۔

ٹرمپ نے عرب ممالک کو صرف اپنے ہی قریب نہیں کیا بلکہ سنی ممالک کی اسرائیل کے ساتھ دوستی کے منصوبے پر بھی کام شروع کردیا۔ خود ہمارے ہاں جاوید احمد غامدی کے ایک شاگرد سمیت بھاڑے کے کچھ دیگر خچروں نے “ابراہیمی مذاہب” کا جو شوشہ چھوڑا تھا یہ شوشہ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ کے ہی پلان کی روح تھا۔ اس پلان میں اسرائیل کی جانب سے بینجمن نیتن یاہو پیش پیش تھے۔ گویا ٹرمپ کے پلان میں امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ کیمپ اس شکل میں بنتا کہ اسرائیل اور سنی ممالک شیر و شکر ہوتے۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کی دوسری مدت حاصل نہ کر پائے۔ اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں باقاعدہ منظّم دھاندلی کے تحت ہرایا گیا ہے۔

ٹرمپ کے بعد آنے والے جو بائیڈن مشرقِ وسطٰی کے حوالے سے اپنے عزائم کا اظہار الیکشن مہم میں ہی کرچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب کو تنہا کرکے ماریں گے۔ اس ضمن میں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو باقاعدہ نشانے پر بھی رکھ لیا تھا۔ مگر جب روس نے 2021ء کے آخر میں اچانک اپنی فوج یوکرین کے کی سرحد پر لا کھڑی کی تو تیل کی قیمتیں بڑھنی شروع ہوگئیں۔ اورتیل کی قیمتوں پر کنٹرول اوپیک پلس ممالک کا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ اوپیک پلس کی سرخیلی سعودی عرب کے پاس ہے۔ یوں یہ وہ لمحہ تھا جب جوبائیڈن نے اسی محمد بن سلمان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے تھے جسے وہ مزہ چکھانے کے اپنے ووٹرز سے وعدے کرچکے تھے۔ جوبائیڈن نے دو بار فون کیا مگر محمد بن سلمان نے کال رسیو نہیں کی۔ مجبور امریکی صدر جو بائیڈن نے اماراتی ولی عہد کو ٹرائی کرنے کا فیصلہ کیا مگر انہوں نے بھی کال رسیو نہیں کی۔

جوبائیڈن جانتے تھے کہ گھٹنے تو ٹیکنے پڑیں گے۔ سو اگر ایسا فون پر نہیں ہوسکتا تو بنفسِ نفیس جا کر ٹیک دیتے ہیں۔ وہ ایئرفورس ون پر سوار ہوئے، براستہ اسرائیل سعودی عرب جا پہنچے اور گھٹنے ٹیک دئے۔ مگر شہزادہ جانتا تھا کہ یہ بائیڈن کے مجبوری کے لمحے ہیں۔ جب بھی یہ مجبوری ختم ہوئی یہ عرب ممالک کے حوالے سے اپنے منصوبے کو آگے بڑھائیں گے۔ محمد بن سلمان نے بائیڈن کو خالی ہاتھ رخصت کردیا۔ اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ یوکرین جنگ شروع ہوتے ہی محمد بن سلمان نے تیزی سے وہ اقدامات شروع کردئے جن کا نتیجہ یہ ہے کہ اب سعودی عرب امریکی نہیں بلکہ چائنیز کیمپ میں کھڑا نظر آرہا ہے۔

ایران کی ملائی ریاست بھی سمجھدار نکلی۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بیجنگ جا پہنچے اور چینی صدر شی جن پنگ سے درخواست کر ڈالی کہ سعودی عرب کے ساتھ صلح کرائیے۔ صلح کرادی گئی اور وہ بھی صرف چار دن میں۔اگر آپ نے نوٹ کیا ہو تو اس صلح پر سب سے زیادہ مسرت کا اظہار ایرانی حکام نے ہی کیا ہے، جس کی بے حد اہمیت ہے۔ اس صلح کا مطلب ہے کہ ایرانی اور سعودی مل کر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے نہ تو امریکی ڈیموکریٹس کے اس کیمپ میں رہنا ہے جس میں مشرقِ وسطٰی پر شیعہ ممالک کی بالادستی ہو۔ اور نہ ہی ریپبلکنز کے اس کیمپ میں جس میں مشرقِ وسطٰی میں شیعہ ممالک حسب معمول پستے رہیں اور اسرائیل و عرب ممالک کی بالادستی ہوتی۔ ہم تو اب چین کے اس کیمپ میں رہیں گے جہاں ہمیں آپس میں لڑنا نہ پڑے۔

وقت ضائع کئے بغیر شامی صدر بشار الاسد ماسکو جا پہنچے اور وہاں سے یو اے ای بھی جا اترے۔ ہم اپنے کالم “بیجنگ سرپرائز” میں عرض کرچکے کہ اس صلح کے نتیجے میں مشرقِ وسطٰی میں اب اسرائیل اکیلا کھڑا ہے۔ مگر اسرائیل کے بھی چین سے قریبی تعلقات ہیں۔ لھٰذا بعید نہیں کہ اسرائیل بھی بیجنگ سے فرمائش کردے کہ سعودی عرب اور ایران سے دوستی کرا دیجئے۔ اسرائیل میں ان دنوں نیتن یاہو کی حکومت ہے۔ اور نیتن یاہو امریکی ڈیموکریٹس کے سخت خلاف ہے۔ نیتن یاہو ریپبلکنز کیمپ کا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کی صلح سے قبل ہی نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل میں مظاہرے جاری تھے۔ اور وجہ اس کی عدالتی اصلاحات کا نیتن یاہو پیکج ہے۔ ان مظاہروں میں اب اچانک مزید شدت آگئی ہے۔

عالمی امور کے ماہرین کی رائے ہے کہ مظاہروں میں اس شدت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ امریکی سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو ہی وہ شخص ہے جو اسرائیل کو امریکہ کے کیمپ سے نکال کر بیجنگ کے کیمپ میں کھڑا کرسکتا ہے۔ اور بیجنگ سے یہ کہہ سکتا ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں ہم بھی ایک فریق ہیں۔ ہماری بھی صلح کرائیے۔چنانچہ امریکہ کی کوشش ہے کہ اس ممکنہ اقدام سے قبل ہی نیتن یاہو کا بوریا بستر گول کردیا جائے۔ اگر اسرائیل بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو امریکہ کے پاس مشرقِ وسطٰی میں بچے گا کیا؟ نیتن یاہو کی حکومت بچے نہ بچے مگر قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل نے پچھلے دس پندرہ برس کے دوران چین سے نہایت قریبی تعلقات قائم ہی اس لئے کر رکھے ہیں کہ اسرائیلی جانتے ہیں کہ امریکہ کا سورج غروب ہو رہا ہے۔

چین اگلا عالمی لیڈر ہے لھٰذا اس سے مستحکم تعلقات وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ سو آج نہیں تو کل اسرائیل نے امریکی کیمپ سے نکلنا ہی ہے۔ اگر یہ نہیں نکلے تو آنے والے وقت میں کمزور امریکہ ان کی کوئی مدد نہ کرسکے گا۔ اور نئے عالمی نظام کے تقاضے خدا جانے کیا ہوں؟

نہایت ہی قابلِ غور بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے قریب آتے ہی شام میں موجود امریکی اڈے کی شامت آگئی ہے۔ پچھلے  5 دن کے دوران اس اڈے پر “نامعلوم افراد” کئی حملے کرچکے۔

صرف یہی نہیں بلکہ اس اڈے پر کئی بار روسی لڑاکا طیارے بھی چکر کاٹ چکے۔ سو سمجھنا دشوار نہیں حملے کون کر رہا ہے اور کون کرا رہا ہے۔ یہ ابتدائی حملے امریکہ کے لئے ایک پیغام پر مشتمل ہیں۔ پیغام بہت ہی واضح ہے کہ بوریا بستر گول کرو اور شام کی سرزمین خالی کرو۔ اگر غور کیجئے تو یہ امریکہ کے لئے مشرقِ وسطیٰ میں بہت ہی نازک گھڑی ہے۔ اگر شام سے نکلتا نہیں تو حملے شدت اختیار کرسکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں تابوت امریکہ پہنچنے شروع ہوسکتے ہیں۔ فوجی تابوت وہ چیز ہے جس سے ترقی یافتہ قوموں کی جان نکلتی ہے۔ اور اگر امریکہ شام سے نکلتا ہے تو پورا مشرقِ وسطیٰ گونج اٹھے گا کہ سپر طاقت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔ ادھر امریکی قیادت کا یہ حال ہے کہ یوکرین میں پلید ہوتی اپنی مٹی سے توجہ ہٹانے کے لئے کہتے ہیں کہ ہمیں چین سے جنگ شروع کردینی چاہئے، اور پھر اگلے دن کہتے ہیں کہ ہمیں میکسیکو پر حملہ کر دینا چاہئے۔ عقل اس حد تک ماری جا چکی کہ چین کے 4000 ڈالر مالیت والے غبارے کو چار چار لاکھ ڈالر کے 2 میزائیلوں کی مدد سے گراتے ہیں۔ نتیجتاً  صرف عالمی برادری ہی نہیں بلکہ امریکی شہری بھی اپنی ہی حکومت پر ہنستے ہیں۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے جنگ؟ اس جنگ میں تو پاکستانی لنڈا بازار بھی ان کا ساتھ نہ دے۔ کیونکہ لنڈا بازار کے 90 فیصد مکین تو سال میں دس دن حسینی بھی ہوتے ہیں۔

Related Posts