جہلم: معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو پولیس نے پیر کے روز حراست میں لے لیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتاری ڈپٹی کمشنر جہلم کے حکم پر دفعہ 3 مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت عمل میں لائی گئی اور بعد ازاں مرزا کو جیل منتقل کردیا گیا۔
اس اقدام کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ایک انتظامی قدم قرار دیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس کے ساتھ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بھی مرزا کی اکیڈمی پر چھاپہ مارا، جو ایک روز قبل موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر کیا گیا۔
کارروائی کے دوران اکیڈمی کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا اور کسی بھی اجتماع یا سرگرمی کی اجازت نہیں دی گئی۔
دفعہ 3 کے تحت تین ماہ تک کسی بھی شخص کو بطور احتیاطی اقدام حراست میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ عوامی امن قائم رکھا جائے۔
تاحال انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ الزام یا تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ مرزا کی گرفتاری نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے، جہاں مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








