قائداعظم کے خون سے دشمنی؟ بھارت میں نسلی واڈیا اور خاندان پر مقدمات کی بوچھاڑ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ممبئی پولیس نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے نواسے اور معروف صنعت کار نسلے نیویل واڈیا کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ اور کچھ ساتھیوں پر بھی جعلی اور من گھڑت دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا الزام ہے۔ یہ معاملہ فیرانی ہوٹلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ ایک طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع سے متعلق ہے۔

مقدمہ بوریوالی کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت کے حکم پر درج کیا گیا جب ایک درخواست میں واڈیا پر دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات عائد کیے گئے۔ مقدمے میں نسلے واڈیا، ان کی اہلیہ مورین واڈیا، ان کے بیٹوں نیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا اور دیگر افراد ایچ جے بمجی کے ایف بھروچہ اور آر ای واندیوالا کے نام شامل ہیں۔

81 سالہ نسلے واڈیا واڈیا گروپ کے چیئرمین ہیں جو ایوی ایشن، ٹیکسٹائل، رئیل اسٹیٹ اور ایف ایم سی جی جیسے شعبوں میں کام کرنے والا ایک بڑا بھارتی کاروباری گروپ ہے۔ وہ 1944 میں پیدا ہوئے اور محمد علی جناح کی اکلوتی بیٹی دینا واڈیا کے بیٹے ہیں جو انہیں جنوبی ایشیا کی ایک عظیم سیاسی شخصیت کا براہ راست وارث بناتا ہے۔

قائداعظم کا یومِ پیدائش، بانئ پاکستان کی زندگی سے کیا سبق ملتا ہے؟

یہ تنازع ممبئی کے مالاد میں ایک زمین کے ٹکڑے سے متعلق تین دہائیوں پرانے ترقیاتی معاہدے سے جڑا ہے۔ اس معاہدے کے تحت واڈیا اور فیرانی ہوٹلز کے درمیان بلڈر کے رہجا کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبہ بنایا گیا تھا جس کے مطابق واڈیا کو مجموعی فروخت کے 12 فیصد حصے ملنا تھے تاہم 2008 میں یہ شراکت داری خراب ہوگئی جس کے بعد آمدنی کی تقسیم اور زمین کے انتظام پر طویل قانونی جنگ شروع ہوگئی۔

یہ تنازع جو ابتدا میں ایک کاروباری اختلاف تھا اب جعلسازی، غیر مجاز اقدامات اور غلط بیانی کے الزامات کے ساتھ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت ممبئی ہائی کورٹ اور بھارت کی سپریم کورٹ سمیت کئی عدالتوں میں ہوچکی ہے۔

Related Posts