قیام پاکستان سے ابتک وطن عزیز میں عوام کو صرف دھوکہ ہی دیا جاتا رہا ہے، حکمراں اپنے من پسند لوگوں کو نواتے رہے ہیں ، عوام کو کبھی مفت طبی سہولیات کے نام پر دھوکہ دیا گیا تو کبھی مفت تعلیم کے نام پر ہوتا یہ رہا اورعوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ فلاں ادارے یا شخص کو ایک وسیع قطع اراضی دی جا رہی ہے جس پر ایک اسپتال قائم کیاجائیگااور اس اسپتال میں عوام کو انتہائی کم اخراجات یا مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
جب ایسے اسپتال عروج پر پہنچتے ہیں تو طبی سہولیات کا معاوضہ بڑھتا جاتا ہے، آہستہ آہستہ یہ معاوضہ آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے اور فلاحی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی اراضی پر بھی غریب عوام سے لوٹ مار شروع کر دی جاتی ہے۔
ہمارے ملک کا یہ المیہ ہے کہ ہمارے حکمراں طبقاتی تفریق کے نظریہ پر کاربند ہیں ، وہ جانتے بوجھتے ایسے اداروں کو محض اپنی دوستیوں اور برادریوں کے دباؤ میں قطعہ اراضی فلاحی مقاصد کے نام پر الاٹ کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں ،ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پر بننے والے اسپتال میں غریب عوام کا داخلہ ہی نا ممکن ہو جائے گا، کیوں کہ وہاں ہر طبی سہولت کی بھاری فیسیں وصول کی جانی ہیں۔
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ انہیں علم نہیں تھا تو کیا یہ ذمہ داری حکمران وقت پر عائدنہیں ہوتی کہ وہ فلاحی مقاصد کے لیے دی گئی زمین پر اسپتال بنانے والے ادارے اس اقدام کا نوٹس لیں کہ عوام سے بھاری فیسیں کیسے وصول کی جا رہی ہیں۔
ایسے اسپتالوں میں کراچی کے 2 بڑے اور معروف اسپتال آغا خان اسپتال اور لیاقت نیشنل اسپتال دونوں ٹرسٹ اسپتال ہیں۔ لیاقت نیشنل وہ اسپتال تھا جسے حکومت پاکستان نے تعمیر کیا تھا اور اس کا افتتاح گورنر جنرل اسکندر مرزا نے کیا تھا۔
لیاقت نیشنل اسپتال کی پوری زمین اور وہاں کی تعمیر حکومت پاکستان نے غریب عوام کے لئے فلاحی مقاصد کے لئے کی تھی ، بڑھتی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے لیاقت نیشنل اسپتال قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم ساشیں پاکستان کا مقدر رہیںاور لیاقت نیشنل اسپتال ذاتی جاگیر میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔
اب یہاں آنے والے مریضوں سے بھاری رقومات وصول کی جاتی ہیں اور ایک متوسط طبقے کا مریض یہاں مکمل علاج کرانے سے قاصر ہے۔ اسپتال انتظامیہ معمولی بیماری پر بھی علاج کے نام پر مریض کو اسپتال میں داخل کر کے بلا جواز و غیر ضروری ٹیسٹ کروا کر بھاری فیسیں وصول کرتی ہے اور کئی غیر ضروری ادویہ بھی مریض کے نسخے میں شامل کر کے بل بڑھا یا جاتا ہے۔
مریض تندرست بھی ہو جائے مگر بل بڑھانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ ابھی 2 دن مزید مانیٹر کرنے کے لیے داخل رکھا جانا ضروری ہے، مریض کے اہل خانہ کو خوفزدہ کر کے مریض کو مزید روک لیا جاتا ہے اور اس طرح اس کا بل بنتا چلا جاتا ہے ، اس لوٹ مار پر حکومت وقت ہمیشہ خاموش رہتی ہے کبھی اس کے خلاف کاروائی یا نوٹس نہیں لیا جاتا جو سراسر حکمرانوں کی بد نیتی پر مبنی ہے۔
اسی طرح کراچی کے بڑے اسپتالوں میں آغا خان اسپتال کی قطعہ اراضی سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے تحفے میں دی تھی ۔اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے یہ اپیل کی تھی کہ وہ غریب عوام کے علاج کے لئےاسپتال تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں غریب شہریوں کو طبی سہولیات با آسانی میسر ہو نگی ۔
یہ بات واضح رہے کہ امانت کے حوالے سے بنائے گئے پاکستانی قوانین کے مطابق فلاحی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی قطعہ اراضی وفاقی یا صوبائی ٹیکس جن میں انکم ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس شامل ہیں وہ ان سے وصول نہیں کیے جاتے۔
آغا خان اسپتال یا لیاقت نیشنل اسپتال دونوں طبی سہولیات کی مد میں سب سے زائد فیسیں وصول کرتے ہیں مگر دونوںاسپتال قومی خزانے میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے کیوں کہ انہیں فلاحی کاموں کے لیے چھوٹ دی گئی ہے مگر جب کوئی مریض ان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے تو ان سے معمولی علاج کے بھی لاکھوں روپے وصول کر لیے جاتے ہیں۔
آغا خان اسپتال میں جنرل وارڈ میںروم چارجز 590 روپے یومیہ چارج کیے جاتے ہیں جبکہ پرائیویٹ روم( جس میں ایک ہی مریض ہو) اس کے چارجز 3300 روپے وصول کیے جاتے ہیں ، یہ معاوضہ صرف کمرے کا ہے ۔اس کے علاوہ علاج ، ٹیسٹ کے چارجز اورڈاکٹر کی فیس علیحدہ ہوتی ہے، زچگی میں نارمل ڈیلیوری کا ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے وصول کیا جاتا ہے ۔
کہا یہ جاتا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کے لیے ہم بین الاقوامی طبی اصولوں کے تحت خدمات انجام دیتے ہیں جس پر بھاری اخراجات آتے ہیں، اس طرح لاکھوں روپے کی رقم بن جاتی ہے جو کسی فلاحی مقاصد کے لیے بنایا گیا اسپتال کیسے وصول کر رہا ہے؟ ۔
غریب افراد ان دونوں اسپتالوں کا رخ ہی نہیں کرتے ، لیاقت نیشنل اسپتال جو خالص طور پر وفاقی حکومت کا سرکا ری اسپتال تھا اسے مبینہ جعلسازی و دھوکہ دہی سے کچھ صنعتوں کے گروہوں نے سنبھال لیا ہے جنہوں نے بد نیتی سے اسے نجی ٹرسٹ میں تبدیل کر لیا ہے، اسی طرح آغا خان اسپتال نے حکومت پاکستان کے ساتھ جعلسازی کی ۔
اس زمین کی قیمت جو آغا خان فاؤنڈیشن کو تحفے میں دی گئی تھی، اس وقت تقریباً 20 ارب کی تھی اب ایک اندازے کے مطابق اس کی مالیت تقریباً 500 ارب ہے ۔ غریبوں کے علاج کے نام پر قیمتی اراضی حاصل کر کے نہ اس پر ٹیکس ادا کیا جاتا ہے نہ ہی غریبوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔
کچھ شور اس وقت اٹھا تھا جب سپریم کورٹ نے آغا خان اسپتال انتظامیہ سے کورونا از خود نوٹس کیس میںباز پرس کی تھی ، تب بھی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی نہ ہی حکومت نے آغا خان اسپتال اور لیاقت نیشنل اسپتال کا کبھی آڈٹ کیا ہے ۔
فلاحی مقاصد کے لیے قائم اسپتالوں میں مریضوں سے لوٹ مار کس طرح جاری ہے،اب اگر کوئی اس صورتحال کا تدارک کر سکتا ہے اورغریب عوام کو ان کا حق دلوا سکتا ہے اور فلاحی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی اراضی پر فلاحی مقاصد کے لیے قائم اسپتالوں میں غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولت دلوسکتا ہے تو وہ سپریم کورٹ آف پاکستان ہی ہے یا پھر عوام فوج سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہریوں کی طبی سہولیات کی بحالی میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ، کیوں کہ 70 سال میں کسی سیاستدان نے اس پر کبھی توجہ نہیں دی اور ماضی میں سابق آرمی چیف مرحوم جنرل ضیاالحق نے اگر قطعہ اراضی فلاحی مقاصد کے لیے دی تھی تو وہ بھی فوجی تھے اس لیے فوج کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔