اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر اپنے وحشیانہ حملوں کو تیز کر دیا ہے، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں مزید 256 فلسطینی شہید ہوگئے۔ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 9061 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 32 ہزار زخمی ہیں۔ شہید افراد میں 3750 بچے اور 2326 خواتین بھی شامل ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 2600 افراد اب لاپتہ ہیں جن میں 1150 بچے بھی شامل ہیں، زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ تباہ شدہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ فلسطینی خوراک، ایندھن، پینے کے پانی اور ادویات کی قلت کا شکار ہیں، ایسے میں نیوز نیٹ ورکس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات اور جعلی ویڈیوز کی لہر بھی پھیل رہی ہے۔
BREAKING:
‼️???????? Saudi Arabia has given the green light for the deployment of US air defense systems in the country to protect Israel from external attacks, – Saudi Arabia’s defense minister
The sides discussed the situation in the Middle East, and additional air defense systems… pic.twitter.com/DXTdTZB3jO
— Megatron (@Megatron_ron) November 1, 2023
(ایکس) کے @Megatron_ronکے نام کا اکاؤنٹ جو پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، نے یکم نومبر کو پوسٹ کیا کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ مملکت نے اسرائیل کو بیرونی حملوں سے بچانے کے لیے ملک میں امریکی فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی کے لیے ہری جھنڈی دکھادی ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ ”فریقین نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، اور مملکت میں اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کیا جائے گا، کیونکہ یمن سے اسرائیل کی طرف داغے جانے والے میزائل سعودی عرب کی سرزمین کے اوپر سے جاتے ہیں۔
تاہم، پوسٹ نے کوئی ذریعہ فراہم نہیں کیا، اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر، رپورٹ بالکل بے بنیاد ثابت ہوئی۔
واضح رہے کہ جنگ کے دوران معلومات کی تصدیق اور معتبر یا قابل اعتماد ذرائع تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم معلومات کی اہم جگہ بن جاتے ہیں۔
اسرائیلی بمباری کا 27 واں روز، شہداء کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کرگئی
لیکن انہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے غلط معلومات اور جعلی خبریں بھی پھیلائی جاتی ہیں، جبکہ نفرت انگیز تقاریر سے اشتعال پھیلانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے مواد کو روکنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے جس سے تشدد کی آگ بھڑکنے کا اندیشہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








