پاکستان سمیت دنیا بھر میں خٰواندگی کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جبکہ یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر کی حکومتوں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت خواندگی کا عالمی دن جو ہر سال 8ستمبر کو منایا جاتا ہے، اس دن تعلیم کی اہمیت کو فروغ دے کردنیا بھر کے کروڑوں ناخواندہ اور تعلیم سے بے بہرہ افراد کو تعلیم دینے کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے کروڑوں افراد سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیزی سے ترقی کرتے ہوئے معاشروں میں دیگر لوگوں سے اس لیے پیچھے ہیں کیونکہ وہ اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے لوگوں کو تعلیم دی جائے۔
ہرسال عالمی یومِ خواندگی کے موقعے پر دنیا بھر کے مختلف ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، تعلیمی این جی اوز اور سماجی تنظیمیں مختلف تقریبات کے انعقاد کا اہتمام کرتی ہیں۔ آئیے پاکستان میں خواندگی کے تشویشناک حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔
تشویشناک حقائق
پاکستان دنیا کے ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں بچے اسکول نہیں جاتے۔ پاکستان میں اسکول نہ جانے والے 5 سے 16سال تک کی عمر کے بچوں کی تعداد کا تخمینہ 2 کروڑ 20 لاکھ ہے جو اسی عمر کے تمام بچوں کی 44فیصد تعداد بنتی ہے۔
یہی نہیں، بلکہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں صنفی امتیاز بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو صورتحال تشویشناک کی حد سے نکل کر شرمناک ہوچکی ہے جہاں صرف 22 فیصد بچیاں ہی پرائمری تعلیم مکمل کرپاتی ہیں۔
دیہاتی بچیوں کو ثقافتی مسائل، کم عمری میں شادی اور غیر محفوظ ماحول کا بھی سامنا ہے جہاں جنسی تشدد اورصنفی جرائم بھی بڑھ رہے ہیں جو بچیوں کی زندگی، عزت اور تعلیمی صورتحال کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ملک کے 40 فیصد کے قریب اسکولز ایسے ہیں جہاں طلبہ و طالبات کو بنیادی سہولیات ہی دستیاب نہیں ہیں جن میں پینے کا صاف پانی، ٹوائلٹ اور بجلی جیسی بنیادی اور ضروری سہولیات شامل ہیں جن کے بغیر تعلیم کا تصور ہی محال ہے۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہ جاتے ہوں، وہاں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے ہم اپنے بچوں کو اسکول کے قریب لا رہے ہیں یا پھر انہیں مزید دور بھاگنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ بھی پے کہ پاکستان میں خواندگی کی شرح 60 فیصد کے لگ بھگ ہے اور جو لوگ اسکول سے گزر کر کالج تک جا پہنچتے ہیں، ان کی تعلیمی صورتحال بعض اوقات قابلِ رحم ہوتی ہے، متعدد بچے لکھنے اور پڑھنے پر ہی عبور نہیں رکھتے۔
پڑھنے اور لکھنے کی بنیادی مہارتوں میں پسماندگی کی بڑی وجہ کم معیاری اساتذہ کا انتخاب ہے اور سرکاری اسکولوں میں بے شمار اساتذہ انگریزی اور اردو کے متعدد الفاظ کو غلط پڑھتے، لکھتے یا پھر ان کے غلط معانی بتا کر بچوں کو گمراہ بھی کرنے میں ملوث ہیں۔
بچوں کو گمراہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ کی اپنی تعلیم مکمل نہیں ہوتی اور دوسری بڑی وجہ نااہلی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بے شمار اسکولوں میں اساتذہ جعلی ڈگریاں لے کر یا پھر گھوسٹ ٹیچر بن کر صرف تنخواہ لینے کیلئے بھرتی ہوتے ہیں۔
تعلیمی نصاب جسے ہمیشہ سے اَپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے سرکاری اسکولز میں سالہا سال ایک جیسا رہتا ہے۔ اساتذہ کی کمی اور غیر تربیت یافتہ اسٹاف بھی اسکول میں بچوں کی تعلیمی پسماندگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
تکلیف دہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اپنے جی ڈی پی کا صرف 2اعشاریہ 5فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ یونیسکو نے تعلیمی صورتحال بہتر کرنے کیلئے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کو ہدایت کی ہے کہ یہ شرح 4سے 6 فیصد کے درمیان ہونی چاہئے۔
پھر ایک اور بڑا مسئلہ یہ آن پڑتا ہے کہ بچوں کو اسکول میں داخل تو کرادیا گیا لیکن بعض معاشرتی وجوہات اور تعلیمی ماحول نہ ہونے کے سبب یا تو بچوں کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا یا پھر والدین انہیں اپنے معاشی مسائل کے باعث کم عمری سے ہی پیسے کمانے پر لگا دیتے ہیں۔
نتیجتاً اسکولوں سے بچوں کے تعلیم مکمل کیے بغیر پڑھائی چھوڑ دینے کی شرح بہت زیادہ ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس لیے بھی اضافہ ہورہا ہے کیونکہ آج کل مہنگی بجلی سمیت دیگر مہنگی اشیاء والدین کو تعلیم کی بجائے اپنی زیادہ توجہ دیگر ضروریات پر دینے کیلئے مجبور کررہی ہیں۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد علاقے تنازعات کی زد پر رہتے ہیں اور بے شمار اسکولوں کو یا تو تباہ کردیا گیا ہے یا پھر اگر بچوں کو وہاں تعلیم کیلئے بھیجا جائے تو والدین کو ایسا کرنا محفوظ نہیں لگتا کیونکہ بعض اوقات بچوں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
تعلیم پانے والے یا اسکول چھوڑ دینے والے بچوں کی اچھی خاصی تعداد کم عمری میں ہی مختلف ورکشاپس یا دکانوں پر کام کرنے لگتی ہے یا پھر انہیں پیسہ کمانے والے کسی بھی دیگر کام میں لگا دیا جاتا ہے جس سے ان کی تعلیم کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں کیاجاسکتا۔
یہاں تعلیم کے بڑے مسائل میں سے ایک نجی اور سرکاری اسکولوں کا مقابلہ بھی ہے۔ ایک جانب سرکاری اسکولوں میں بچوں کو بنیادی سہولیات کا ہی فقدان درپیش ہے جبکہ دوسری جانب نجی اسکولوں میں تعلیم نسبتاً بہتر سمجھی جاتی ہے تاہم یہ تعلیم اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ متوسط طبقے کے افراد اس کے متحمل نہیں ہوسکتے اور غریب تو اس کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








