جعلی عاملوں کیخلاف اقدامات کی ضرورت

تازہ ترین

تازہ ترین

اولاد نرینہ کی خواہش میں حاملہ خاتون کے سر میں کیل ٹھونکنے کے واقعہ کوبین الاقوامی میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی، خاتون اپنی کھوپڑی سے کیل نکالنے کی کوشش کے بعد پشاور کے ایک اسپتال پہنچی جبکہ جعلی پیر کا سراغ نہیں مل سکا۔متاثرہ خاتون کے مطابق جعلی عامل نے کیل ٹھونکنے پر بیٹا پیدا ہونے کی ضمانے دی تھی۔

تین بیٹیوں کی ماں نے دعویٰ کیا کہ اس کے شوہر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے پھرلڑکی کو جنم دیا تو وہ اسے چھوڑ دے گا۔ آخرکار وہ عجیب و غریب عمل کے بارے میں سن کر جعلی عامل کا شکار بنی۔پاکستان سمیت کئی ممالک میں بیٹے کو بیٹی پر ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ بیٹے کواپنے خاندانوں کو مالی استحکام فراہم کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔

یہ نام نہاد عقیدے کے علاج کرنے والوں کے استحصالی طریقوں کو جنم دیتا ہے، جو دیہی علاقوں میں عام ہیں۔روحانیت کے نام پر ان کے عجیب و غریب طرز عمل کو روکا نہیں جاتا حالانکہ مذہبی احکام کے تحت بھی ان کی ممانعت ہوتی ہے۔

خواتین ان جعلی عاملوں کا سب سے زیادہ شکار ہوتی ہیں جبکہ عقیدہ مندوں پرتشدد، بدسلوکی اور جنسی استحصال کے ان گنت واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔جعلی عامل من گھڑت کہانیاں اور جھوٹی باتیں سنا کر خواتین کو دھوکہ دینے کے بھی ذمہ دار ہیں۔

عامل اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں اور محبت، شادی اور گھریلو مسائل حل کرنے کے دعوے کرتے ہیں لیکن عام طور پر بھاری رقوم کی وصولی اور معصوم لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔

پدرانہ معاشرہ جو نرینہ اولاد کو ترجیح دیتا ہے وہ بھی جعلی معالجوں کا سہارا لینے کا ذمہ دار ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی کمی اکثر بہت سے لوگوں کو متبادل علاج تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ناخواندگی اور جہالت کی وجہ سے لوگ جعلی عاملوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

بہت سے متاثرین نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ روحانی علاج کے نام پر جنسی زیادتی اور بلیک میل تک کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ بغیر خوف کے کام کرتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف کبھی کوئی بھاری کریک ڈائون نہیں ہوا ۔حکام اور پولیس کو سنجیدگی سے نوٹس لینے اور بھرپور کریک ڈائون شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معصوم لوگوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Related Posts