اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ افغانستان کے معاملات چلانے کیلئے پاکستان سے لوگوں کو بھیجا جاسکتا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا تو وزیر خزانہ شوکت ترین نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد تک رہی اور رواں سال 4.8 فیصد پر لیکر جائیں گے، معیشت میں بہتری آرہی ہے جس سے گروتھ بڑھے گی۔
شوکت ترین نے کہا کہ افغانستان کے 9 ارب ڈالر عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے روکے گئے، افغانستان کے مالی ذخائر کو منجمد کیا گیا ہے، افغانستان کے ساتھ تجارت پاکستانی روپے میں ہوگی۔
چند ہفتوں بعد یہ معلوم ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت پر کیا اثرات مرتب ہونگے، افغانستان کی صورتحال میں معاملات چلانے کیلئے یہاں سے بھی لوگوں بھیجا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان سے 30 ٹن خوراک اور ادویات لے کر طیارہ افغانستان پہنچ گیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








