بھارتی ریاست اتر پردیش (یو پی) کے میرٹھ سے ایک افسوسناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے طالبعلم رہنما وِکل چپرانہ نے ایک شخص کو نہ صرف سرِ عام زبانی بدسلوکی کا نشانہ بنایا بلکہ اسے زبردستی گھٹنوں کے بل بیٹھا کر معافی مانگنے پر بھی مجبور کیا تاہم حیرت انگیز طور پر اس تمام واقعے کے دوران پولیس موقع پر موجود تھی مگر کسی نے بھی مداخلت نہیں کی۔
یہ واقعہ 21 اکتوبر کو پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں بی جے پی چپرانہ کو غصے سے بھرپور انداز میں گالیاں دیتے اور دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ویڈیو میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہاتھ جوڑ لو، سُومندرا ٹومر میرے بھائی ہیں۔
BJP student leader Vikul Chaprana and close aid of BJP MLA and Cabinet Minister Somendra Tomar seen abusing and forcing a man to kneel and apologise in front of the @meerutpolice following an altercation. That’s the power of being associated with the BJP in power. pic.twitter.com/jZbhlhuRWz
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) October 21, 2025
واضح رہے کہ سومندرا ٹومر، اترپردیش حکومت میں وزیر توانائی ہیں اور میرٹھ ساؤتھ سے بی جے پی کے ایم ایل اے بھی ہیں۔چپرانہ کو ان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ لوگوں نے اسے بی جے پی کے رہنماؤں کی طاقت کے ناجائز استعمال اور قانون کی بے بسی کی ایک واضح مثال قرار دیا۔ کئی افراد نے پولیس کے غیر جانبدار کردار پر بھی سوال اٹھائے کہ آخر کیوں اہلکار موقع پر موجود ہونے کے باوجود خاموش رہے۔
ادھر کانگریس نے بھی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف سخت تنقید کی اور چپرانہ کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی ہے بی جے پی کا اصل چہرہ جہاں ان کے رہنما خود کو بادشاہ اور عام عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








