عیدالاضحی کا تہوار تیزی سے قریب آرہا ہے اور بہت سے لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری کے لئے مویشی منڈی کا رخ کررہے ہیں۔
اس سال کورونا وائرس وبائی بیماری کی وجہ سے مویشی منڈی کا دورہ بہت مشکل ہوسکتا ہے، شہریوں کو کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
آپ کو یقینی بنانا ہوگا کہ آپ مویشیوں کے قریب جاتے وقت ماسک پہن کر رکھیں۔ توقع ہے کہ عیدالاضحی سے قبل لاکھوں لوگ مویشی منڈیوں کا دورہ کرینگے ، جہاں چار لاکھ سے زیادہ جانور پہلے ہی خریداروں کے منتظر ہیں تاہم متعدی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ماسک پہننا ضروری ہے۔

معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کو نافذ کرنے کے لئے مویشی منڈی کے باہر ماسک فروخت کیے جارہے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ماسک نہیں ہے تو آپ منڈی کے باہر سے ماسک خرید کر چہرہ ڈھانپ سکتے ہیں۔
مویشی منڈی کے داخلی راستوں پر خصوصی واک تھرو ڈس انفیکٹ گیٹس لگائے گئے ہیں۔ یہ اسپرے تمام لوگوں کو جراثیم سے پاک کرتے ہیں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

مویشی منڈی کا دورہ کرنے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں ، خاص طور پر اگر آپ نے کسی جانور کو چھوا ہے تو لازمی ہاتھوں کو دھوئیں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کم از کم 20 سیکنڈ تک اپنے ہاتھ دھوئیں۔
مویشی منڈی میں رکھی خصوصی اسکرین پر حفاظتی ہدایات اور کورونا وائرس سے متعلق معلومات دی جارہی ہیں۔ اگر آپ حفاظتی احتیاطی تدابیر اور مہلک وائرس کے بارے میں آگاہ نہیں ہیں تو دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔

آپ قربانی کے جانور کو دیکھنے ، خریدنے اور یہاں تک کہ وقت گزارنے کے لئے مویشیوں کی منڈی میں جا سکتے ہیں تاہم حفاظت کی یہ آسان احتیاطیں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دیتی ہیں اور آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو محفوظ اور صحتمند رکھیں گی۔

کراچی سے باہر بھی عیدالاضحی کے موقع پر بہت سے لوگ مویشی منڈی جاتے ہیں جہاں 10 لاکھ سے زیادہ جانوروں کی فروخت کی توقع ہے ، دولاکھ سے زیادہ افراد عارضی طور پر یہاں موجود ہیں جبکہ مجموعی طور پر لاکھوں افراد مویشی منڈیوں میں آتے ہیں ۔

اگر ضروری ایس او پیز کی پیروی نہیں کی جاتی ہے تو اتنے بڑے ہجوم میں کورونا وائرس کے کیسزبڑھ سکتے ہیں اس لئے مویشی منڈی میں جاتے ہوئے حفاظت کی ان احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہماری ذمہ داری ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں









