غیر ملکی افراد اور جعلی شناختی کارڈز

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان نے ہمیشہ غیر ملکیوں اور غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد سے متعلق پیچیدگیوں اور مشکلات کا سامنا کیا۔ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو شناختی کارڈ جاری کر دئیے گئے جن میں افغان مہاجرین بھی شامل ہیں جبکہ کئی دہائیوں سے رہنے والوں نے رجسٹریشن نہیں کروائی اور غیر قانونی طور پر ملک میں رہائش پذیر ہیں۔

وزیر اعظم نے گزشتہ روز غیر ملکیوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ایلین رجسٹریشن کارڈ اور ورک پرمٹ کا اجرا کیا  جو ایک بہت بڑا قدم ہے تاکہ غیر ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور اپنے کاروبار کو قانونی طریقے سے چلا سکیں۔ تارکینِ وطن اب پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ لے سکیں گے، بینک اکاؤنٹ کھول سکیں گے، گاڑیاں رجسٹر کروائیں گے اور نوکریاں بھی حاصل کرسکیں گے۔یہاں تک کہ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکی افراد پاکستانی موبائل سمز، یوٹیلٹی کنکشن اور خریدوفروخت کے بھی اہل ہوں گے۔ 

پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں اور بے شمار غیر قانونی تارکین وطن میں بنگالی اور بہاریوں جیسی بہت سی کمیونٹیز کئی دہائیوں سے آباد ہیں جن کی رجسٹریشن کا کوئی ثبوت نہیں۔ ایسے لوگ نوکریوں کو محفوظ بنانے ، کاروبار کھولنے یا اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے قاصر ہیں اور شدید پسماندگی کا شکار ہیں۔ حکومت کے اس اقدام سے انہیں معاشرے کا پیداواری رکن بنانے میں مدد ملے گی۔ تمام باشندوں کو صحت ، تعلیم اور انصاف جیسے بنیادی حقوق کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

تاہم حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کا عمل بدعنوانی کا شکار نہ ہو اور جعلی شناختی کارڈ کے اجراء کا باعث نہ بنے۔گزشتہ ماہ اراکینِ اسمبلی ایف آئی اے کے دعووں پر حیران ہوگئے کہ 4 لاکھ جعلی شناختی کارڈز جاری کیے جاچکے ہیں۔ نادرا میں بدعنوانی کی اطلاعات نئی نہیں ہیں لیکن اعداد و شمار کی صداقت پر ارکان پارلیمنٹ نے سوالات اٹھا دئیے۔ ماضی میں یہ الزامات بھی شامنے آئے کہ دہشت گردوں نے رشوت یا غیر قانونی مالی فائدے کے عوض  شناختی کارڈ حاصل کیے۔ یہ جان کر انتہائی پریشانی ہوتی ہے کہ ہمارے اعداد و شمار کو محفوظ بنانے کا کام کرنے والے اداروں کے اہلکار عسکریت پسندوں اور ممنوعہ تنظیموں کو جعلی  شناختی کارڈ جاری کرنے میں ملوث پائے گئے۔

جعلی شناختی کارڈ کا اجراء روکنے کے لیے نادرا نے اب مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کیا ہے جس کی بدولت حال ہی میں جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے پر 47 ملازمین کو نوکری سے فارغ کردیا گیا جبکہ شناختی کارڈز کا نظام اصلاحات سے گزر رہا ہے۔ حکومت کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث بدعنوان عناصر کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانا ہوگی۔ ہمیں غیر ملکیوں ، غیر قانونی تارکین وطن اور شہریوں کیلئے بھی شناختی کارڈ کا مؤثر نظام درکار ہے۔

Related Posts