سابق سفارتکار نے پاک افغان تعلقات میں بہتری کیلئے اہم تجاویز پیش کردیں

تازہ ترین

تازہ ترین

آصف درانی، فائل فوٹو

سابق پاکستانی سفارتکار آصف درانی نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے سفارتی کوششوں کی تجویز پیش کردی۔

سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان  نے اپنے ایک ایکس پیغام میں لکھا کہ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو بے شمار مسائل سے دوچار ہے اور اسے چھوڑ دینا ایسے ہی ہے جیسے کسی مریض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں تنہا چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے پاکستان کو افغانستان کا بڑا بھائی قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ پاکستان کو بڑے دل اور خلوص کے ساتھ افغان عوام کے ذہن و دل جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آصف درانی نے لکھا کہ پاکستان کو ان دونوں عظیم اقوام، افغانوں اور پاکستانیوں کے بارے میں مخالفین کے منفی نقطۂ نظر کو نظرانداز کرتے ہوئے پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

سابق پاکستانی نمائندے نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ خطے کے ممالک کے درمیان امن کا قیام ایک مشکل کام ہو سکتا ہے، تاہم دانشمندانہ اور باخبر پالیسی سازی کے ذریعے پُرامن بقائے باہمی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کسی مخصوص ملک یا بھارت کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر دشمن اپنی کئی دہائیوں پر محیط سوچ کو ترک کر کے آگے بڑھنے کا فیصلہ کریں تو خطے کے بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

آصف درانی نے واضح کیا کہ اگرچہ خطے میں امن کا قیام عملی طور پر مشکل دکھائی دیتا ہے، لیکن دو تباہ کن عالمی جنگوں کے بعد یورپ کا ایک مشترکہ گھر میں تبدیل ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو آگ کی تپش جانچنے کے لیے اپنی انگلیاں جلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

سابق سفارتکار نے ایسے وقت میں خطے کے فریقین کو مفاہمت کی دعوت دی ہے جب کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد حالیہ دنوں میں پاکستان اور طالبان حکام کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے سات جدی کو کابل میونسپلٹی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بعض پاکستانی علما کی جانب سے افغانستان کے بارے میں دیے گئے “مثبت بیانات” کا خیر مقدم کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ان سے اپیل کی کہ افغانستان کی تباہی کے بارے میں نہ سوچیں بلکہ اس کی تعمیر کے لیے تعاون کریں۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سال 2025 کے اختتام پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں سراج الدین حقانی کے لیے مثبت پیغام دیا۔

Related Posts