اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر غلام سرور کو گرفتار کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیرہوابازی غلام سرور خان کو ڈیڑھ مہینے کی کوششوں کے بعد اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔ غلام سرور خان کو اسلام آباد میں ان کے دوست کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔
ان کے ساتھ پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی مصورحیات خان اور سابق صوبائی اسمبلی کے رکن عمار صدیق خان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کے خلاف تھانہ ٹیکسلا میں انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے جبکہ 3 سابق ارکان اسمبلی 9 مئی کے پرشدد واقعات میں راولپنڈی پولیس کو بھی مطلوب تھے۔ پی ٹی آئی کے تینوں رہنماؤں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
ہمارا فوری منصوبہ براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری 5ارب ڈالرز تک پہنچانا ہے۔وزیراعظم
واضح رہے کہ جڑواں شہروں کی پولیس غلام سرور کی گرفتاری کے لیے ان کے مختلف ٹھکانوں پر چھاپے مارتی رہی ہے، ٹیکسلا میں ان کے دفاتر اور پیٹرول پمپ بھی سیل کر دیے گئے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ غلام سرور ایف ایٹ میں اپنے دوست کے گھر ایک میٹنگ کے لیے گئے تھے، لیکن پولیس کو اس کی اطلاع ملی تو چھاپا مار کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
یہ آپریشن جڑواں شہروں کی پولیس نے مل کر کیا، سابق وزیر کو مقدمات میں عدالت میں پیش کیا جائے گا، تاہم یہ ابھی طے نہیں ہوا ہے کہ انہیں اسلام آباد کی مقامی ماتحت عدالت میں پیش کیا جائے گا یا راولپنڈی منتقل کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








