کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا

تازہ ترین

تازہ ترین

مومن خان مومنؔ کو اردو زبان کے شعراء میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور ان کے بعض اشعار کو جو شہرت ملی، کسی اور شاعر کے نصیب میں ایسا مقام کم ہی آیا کرتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مومن خان مومنؔ نے عربی، فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا تھا، بچپن سے ہی ذہین و فطین تھے اور اللہ تعالیٰ نے حافظہ بھی بہت اچھا دیا تھا۔

آپ نے غزل کے علاوہ رباعی، واسوخت اور مثنوی سمیت تمام اصنافِ شعر پر طبع آزمائی کی اور خوب شہرت پائی۔ ان کی ایک غزل وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، بے حد مشہور ہوئی۔اسی غزل کا ایک شعر ہے:

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

موجودہ دور سیاسی اعتبار سے انتہائی ہنگامہ خیز اور پریشان کن رہا ہے جہاں سیاسی اتحاد بننا اور ٹوٹنا روز کی بات ہوچلی ہے۔ حال ہی میں وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ پر اعتراضات کیے جو زباں زدِ عام ہیں۔

قبل ازیں وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی خارجہ و معاشی پالیسیوں کی کبھی کھل کر مذمت نہیں کی بلکہ انہیں قابلِ تعریف ہی قرار دیتے نظر آئے ، بلکہ عالمی سطح پر تو بلاول بھٹو زرداری ہی موجودہ حکومت کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا اچانک کیا ہوا کہ وزیرِ خارجہ کو یہ کہنا پڑ گیا کہ اگر بجٹ میں سیلاب متاثرین کیلئے رقم مختص نہ کی تو ہم بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ نہیں دیں گے؟

اچھی بات یہ ہوئی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیرِخارجہ کی یہ دھمکی سن لی اور اس پر ایک مثبت ردِ عمل دیا اور اربوں روپے سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے وقف کردئیے۔

اگر قارئین کو یاد ہو تو سیلاب صرف سندھ میں نہیں آیا تھا بلکہ سندھ کے ساتھ ساتھ یہ سیلاب بلوچستان اور پنجاب کے علاقوں میں بھی آیا اور وہاں کی بھی اچھی خاصی آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی تھی۔

پھر بھی وزیر اعظم شہباز شریف نے سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے امداد کی رقم مختص کی جو سیلاب زدگان کیلئے ہوا کے کسی تازہ جھونکے سے کم نہیں ہے۔

گزشتہ برس آنے والے سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کی 3کروڑ سے زائد آبادی کو متاثر کیا۔ 1700 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 80 لاکھ کے لگ بھگ بے گھر ہو گئے۔

بائیس لاکھ سے زیادہ مکانات اور 13فیصد سے زائد طبی مراکز کو نقصان پہنچا اور 44لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ 8000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں اور 440 سے زائد پلوں سمیت بنیادی انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔

ضروری ہے کہ حکومت صرف اتحادی جماعتوں کے یاد دلانے پر نہیں، بلکہ از خود بھی سیلاب متاثرین کو یاد رکھیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات سے فرانس کے دورے کیلئے جا رہے ہیں۔ اس موقعے پر بھی سیلاب زدگان کیلئے امداد اکٹھی کرنے کے مواقع میسر آنے کی توقع کی جارہی ہے۔ 

Related Posts