پیپلزپارٹی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سیاسی اتحاد سے پیچھا چھڑاتی نظر آرہی ہے، انحراف کے ایک سلسلے اور ریاستی اداروں کے خلاف مخالفانہ رویے کے بعد مشکلات میں گھری پی ٹی آئی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں کنگ میکر کون ہوگا؟
مخلوط حکومت کی مدت میں ابھی چند ہفتے باقی ہیں۔ عام انتخابات اسی سال ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ ایسے حالات میں پیپلز پارٹی انتخابات سے پہلے ہی دوسری سیاسی جماعتوں کو لتاڑنا چاہتی ہے۔ جہانگیر ترین کی نو تشکیل شدہ استحکامِ پاکستان پارٹی ایک اور چیلنج کے طور پر ابھری ہے۔
اسی دوران وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو نے ایک اور تنازعہ کھڑا کر دیا اور وفاقی بجٹ کی توثیق نہ کرنے کا عندیہ دے دیا۔ پیپلز پارٹی کا الزام ہے کہ ن لیگ نے وعدے کے مطابق بجٹ میں سیلاب متاثرین کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص نہیں کیے ہیں۔ یہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اچھا نہیں ہوا اور اگرچہ دونوں فریق اختلافات کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عوامی تنقید کے بجائے شکایات کو کابینہ کے سامنے لائیں۔
اگرچہ بلوچستان میں بھی ایسی ہی شکایات ہیں اور پیپلز پارٹی کو بھی جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی کے میئر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا سامنا ہے۔ ایم کیو ایم کراچی سے اپنی گرفت کھونے پر ناراض ہے اور اس نے مردم شماری اور ووٹر لسٹنگ کو چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے۔ حالیہ کامیابیوں سے پیپلز پارٹی کا حوصلہ بڑھ گیا ہے اور اس نے سیاسی مخالفین کو منہ توڑ جواب دینے کی ٹھان لی ہے۔
پی ڈی ایم یقینی طور پر ساجھے کی ہنڈیا تھی جسے بیچ چوراہے میں پھوٹنا ہی تھا جو پی ٹی آئی کی مخالفت اور سابق حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد حالات کنٹرول کرنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ یہ ایک وقتی اتحاد تھا، کیونکہ اگلے انتخابات میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ہر پارٹی کا مقابلہ پی ڈی ایم میں ہی شامل کسی نہ کسی پارٹی سے ہوگا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی اگلے انتخابات کے لیے تیار ہے اور اس نے انتخابی مواد کی خریداری اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی بھی شروع کر دی ہے۔ اس نے ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ بھی دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا مخدوش معاشی صورتحال کے پیش نظر حکومت بروقت فنڈز جاری کرسکے گی؟ حکام انتخابات میں حصہ لینے سے قاصر ہیں لیکن حال ہی میں حالات ان کے حق میں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ہمیں امید کرنی چاہیے کہ 2023 پاکستان کے لیے انتخابی سال ثابت ہو گا۔ قوم سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کو برداشت نہیں کر سکتی جس کا خاتمہ اسی وقت ہوگا جب آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں گے۔ حالات کو معمول پر لانے اور قوم کو مزید انتشار کی طرف جانے سے روکنے کے لیے یہ واحد قابلِ عمل حل قرار دیا جاسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں