خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت دی جائے تاکہ وہ ملک کی معیشت میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کے بڑے کاروبار ہیں اور وہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لا سکتے ہیں۔
سما ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں گنڈا پور نے کہا کہ حکومت کو اپنی شہریت پالیسی میں نرمی اختیار کرنی چاہیے تاکہ افغان باشندے باقاعدہ طور پر ملکی معیشت کا حصہ بن سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب برطانیہ، امریکا اوربلجیم جیسے ممالک افغانوں کو شہریت دے سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں؟۔
وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا میں جاری سیلابی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ذاتی طور پر نہیں جا سکے کیونکہ ان کے صوبے میں ہنگامی صورتحال ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پنجاب کے عوام ان کے بھائی ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کی آخری تاریخ گزر چکی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق صرف وہی افغان شہری ملک میں رہ سکیں گے جن کے پاس درست ویزے ہیں جبکہ جن کے ویزوں کی میعاد ختم ہوچکی ہے انہیں بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ طبی اور تعلیمی ویزہ رکھنے والوں کو خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اب تک اسلام آباد سے 16 ہزار 400 افغان باشندوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے پاکستان کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کو بھی زبردستی واپس بھیجا جائے گا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں افغان باشندوں، بشمول رجسٹریشن کارڈ ہولڈرز، کی گرفتاریاں اور حراست کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








