عام انتخابات اور پی ٹی آئی کا معاملہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان تحریکِ انصاف اس سیاسی جماعت کا نام ہے جس کی بنیاد سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم و سابق وزیر اعظم عمران خان نے 25اپریل 1996ء کو رکھی۔

اپنی 22سالہ جدوجہد کے بعد تحریکِ انصاف نے 2018ء کے عام انتخابات میں وہ ملک گیر کامیابی حاصل کی جس کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ جو شخص 1992ء میں ورلڈ کپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا، وہ ملک کا وزیر اعظم بن جائے گا۔

تاہم یہ ہوا اور عمران خان ملک کے وزیر اعظم بن گئے اور وزیر اعظم کے طور پر غریب عوام کیلئے متعدد اقدامات بھی اٹھائے جن میں احساس پروگرام سرِ فہرست ہے۔ انصاف صحت کارڈ ہو یا کامیاب جوان پروگرام، ہر پروگرام کے تحت غریب اور متوسط طبقے کو کسی نہ کسی حد تک فائدہ ضرور پہنچا۔

پھرہوا تو وہی جیسا کہ پاکستان کی 76سالہ تاریخ میں ہوتا آیا تھا کہ ملک کے کسی بھی وزیر اعظم کو اس کی 5سالہ مدتِ اقتدار پوری نہیں کرنے دی گئی تاہم اس کا طریقہ کار گزشتہ طریقوں سے مختلف رہا اور عمران خان تحریکِ عدم اعتماد لائے جانے کے بعد خالص قانونی طریقے سے وزیر اعظم کی کرسی سے محروم کردئیے گئے۔

ظاہر ہے کہ کوئی بھی شخص جسے وزارتِ عظمیٰ ملی ہو، اور راتوں رات اپوزیشن اس کے خلاف ایک تحریکِ عدم اعتماد لا کر اسے اتنے بڑے عہدے سے محروم کردے، اس عمل کو معاف نہیں کرسکتا، اس لیے عمران خان نے بھی اس واقعے کو حقیقت سمجھ کر کبھی قبول نہیں کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے واقعے کو غیر ملکی سازش کہا جس کا الزام امریکا پر لگایا گیا اور پھر اس الزام کی جانب سے امریکا بہادر کی جانب سے تردیدی بیانات بھی جاری کیے گئے۔ تردیدی بیانات پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے بھی جاری کردئیے جس کے بعد مزید بحث کا موقع باقی نہیں بچا۔

پھر 9مئی کا واقعہ ہوا جس سے تحریکِ انصاف گھٹنوں پر آگئی کیونکہ جی ایچ کیو اور جناح ہاؤس پر حملہ کوئی چھوٹا موٹا جرم نہیں تھا جس کا الزام پی ٹی آئی قیادت پر آگیا اور یہ قیادت آج مقدمات بھگتتی پھر رہی ہے اور عمران خان 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سے اب تک جیل سے باہر نہ آسکے۔

گزشتہ روز نجی ٹی وی ویب سائٹ پر شائع کی گئی ایک خبر کے مطابق سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی نے فوج پر جو حملہ کیا، میں قوم کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے یہ سازش ناکام بنائی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بچا لیا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگلا الیکشن کا میدان جب سجے تو ہم پی ٹی آئی کی ضمانتیں ضبط کروا دیں گے۔ پاکستان ہم سب سے بڑا ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہم وزیر اعظم بنیں یا نہ بنیں، پاکستان ہمیشہ رہے گا۔

بظاہر تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پی ٹی آئی کا آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں، تاہم احسن اقبال کے بیان سمیت ن لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے بدلتے ہوئے بیانات اشارہ دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی آئندہ انتخابات میں حصہ لے کر تاریخ رقم کرسکتی ہے۔ 

 

Related Posts