دنیا میں پاکستان کی پذیرائی۔۔۔ مگر فائدہ کیسے حاصل ہو؟

تازہ ترین

تازہ ترین

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے 22 دسمبر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بدلتے ہوئے عالمی نظام میں مؤثر اسٹرٹیجک رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت امریکا، چین، سعودی عرب اور ایران کے مابین بیک وقت روابط میں متحرک رہی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی سفارت کاری کو موجودہ عالمی ماحول میں مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں کلیدی  کردارا دا کیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر ملک کے واحد آرمی چیف ہیں جن کی عالمی سطح پر اتنی پذیرائی ہوئی۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارت کاری سے نہ صرف پاکستان کی عالمی پوزیشن مستحکم ہوئی بلکہ خطے کی جیوپولیٹیکل صورتحال میں بھی پاکستان کا اثر ورسوخ بڑھا ہے۔سوال یہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو اتنی پذیرائی ملنے کی وجہ کیا ہے؟ تو پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی میں ایک ہاتھ معرکہ حق میں پاک فوج کے کردار کا بھی رہا ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ، اس حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستان نے صرف جنگی نہیں بلکہ اخلاقی فتح بھی حاصل کی۔ مسلح افواج نے ملکی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا اور بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کرکے ہم نے دنیا کوباور کرایا کہ پاکستانی عوام جب متحد ہوجائیں تو کبھی ناکام نہیں ہوتے۔

یہاں یہ ذکر بھی کرتے چلیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کے امریکا سے تعلقات بھی تاریخی بلندیوں پر پہنچے ہیں، کہاں  ماضی قریب میں ملک کے وزیراعظم کو امریکی صدر جوبائیڈن کی کال کا انتظار رہتا تھا اور کہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریفیں کرتے ہیں، بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو فیلڈ مارشل کیلئے قابل احترام کے الفاظ بھی استعمال کیے ، جس سے قومی خارجہ پالیسی کی تاریخی کامیابیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

ایک جانب تو پاکستان کے امریکا سے تعلقات بہتر ہوئے لیکن دوسری جانب بھارت کو تاریخی سبکی کا سامنا ہے ۔ امریکا کی طرف سے بھاری ٹیرف کے نفاذ کے بعد بھارت کو اپنی برآمدات کیلئے نئی منڈیاں تلاش کرنی پڑ رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے انڈین مصنوعات پر 50فیصد ٹیرف نافذ کیا اور بھارتی چاول پر مزید ٹیرف لگانے کی دھمکی کے بعد تو بھارت نے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی مذاکرات کا عمل تیز کر رکھا ہے ، تازہ ترین پیشرفت یہ ہے کہ 18دسمبر کو عمان اور بھارت کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط بھی ہوچکے ہیں بلکہ عمان نے دسمبر کے دوران  بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوملک کے اعلیٰ ترین سول اعزازآرڈر آف عمان  سے بھی نواز دیا۔  دوسری جانب سعودی عرب نے بھی دسمبر میں ہی فیلڈمارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنس سے نوازا، جبکہ سفارتی لحاظ سے ایسے اعزازات کی حیثیت باہمی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے کسی بھی سیاسی قائد یا عسکری شخصیت کی خدمات کا اعتراف ہوا کرتی ہے۔

تاہم سفارتی اعتبار سے یہ سب کچھ اتنا سیدھا سادا نہیں ، جتنا کہ دکھائی دیتا ہے۔ دورِ حاضر ہو یا ماضی کا کوئی بھی زمانہ، عالمی تعلقات کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کی اسی وقت پذیرائی کرتا ہے جب اسے وہاں اپنے مفادات کی جھلک دکھائی دے۔ اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے پاکستان کی حالیہ بھرپور پذیرائی ایک خوش آئند پیش رفت ضرور ہے اور اسے پاکستان کے لیے نہ صرف ایک مفید بلکہ مثبت موقع  بھی سمجھا جانا چاہیے ۔ تاہم یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اگر اس عالمی پذیرائی، یعنی بہتر ہوتے ہوئے بین الاقوامی تشخص، کو بروقت قومی مفاد میں ٹھوس معاشی، تعلیمی، تربیتی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تبدیل نہ کیا گیا تو ایسے سنہرے مواقع بار بار نہیں ملتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیو پولیٹیکل تناظر میں دنیا مسلسل تغیر و تبدل کا شکار رہتی ہے؛ آج اگر ایک ملک توجہ اور پذیرائی حاصل کر رہا ہے تو کل یہ مرکزِ نگاہ کسی اور ریاست کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔

جب تک پاکستان جیسے ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی حقیقی صلاحیت پیدا نہیں کر لیتے اور اپنی مخدوش معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم نہیں کر پاتے، اس وقت تک عدمِ استحکام کے یہ بادل منڈلاتے رہیں گے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ محض وقتی تعریف و تحسین سے معیشت خود بخود مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ان اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہم معرکۂ حق کے بعد دنیا میں حاصل ہونے والے اپنے بلند مقام سے دانش مندی کے ساتھ استفادہ کریں اور فوری طور پر ایسے عالمی و علاقائی خطوں سے اپنے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کریں جن کے ذریعے پاکستان میں ترقی اور فلاح و بہبود کا عملی سفر شروع ہو سکے۔ اس ضمن میں مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی بھی ناگزیر حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اندرونی اعتماد کے بغیر بیرونی سرمایہ کاری دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔

تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوگا، جب برسہا برس سے مختلف ادوارِ حکومت میں ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کے باعث ہمارے متعدد قومی ادارے عملاً کینسر زدہ ہو چکے ہیں۔ میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی بنیادوں پر بے تحاشا بھرتیاں، رشوت ستانی اور بدانتظامی کے فروغ نے ان اداروں کو جس حد تک نقصان پہنچایا ہے، وہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام اداروں میں انقلابی نوعیت کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے اور انہیں جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو مستحکم کیا جائے۔ اسی صورت میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وہ سہولت، اعتماد اور معاونت میسر آ سکے گی جو کسی بھی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔

جب پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ اور اداروں کی طرف سے اس کی سہولت کاری بہتر ہوجائے ، تو نہ صرف معیشت مستحکم ہوگی بلکہ پاکستان ہر قسم کی سازشوں اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی بن جائے گا۔ بااعتماد سرمایہ کاری سے قومی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، مالی اور انتظامی ڈھانچے مضبوط ہوں گے اور ملک میں شفافیت و جوابدہی کا کلچر فروغ پائے گا۔ اس طرح پاکستان نہ صرف معاشی بحرانوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوگا بلکہ داخلی اور خارجی خطرات کے خلاف بھی مؤثر دفاعی اور حکمت عملی اقدامات اٹھاسکے گا، جس سے قومی خودمختاری اور سلامتی کو بھی مزید تحفظ حاصل ہوگا۔

Related Posts