بھارتی سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بھارتی شہر جے پور میں نجی اسکول کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جاں بحق ہونے والی چوتھی جماعت کی کمسن طالبہ کے متعلق انکشاف کیا ہے کہ موت سے تقریباً 45 منٹ قبل اس نے ٹیچر سے کم از کم 5بار مدد مانگی۔
بچی کو شکایت تھی کہ کلاس فیلوز ڈیجیٹل سلیٹ پر نازیبا تبصرے کر رہے ہیں، جس پر ٹیچر نے تبصرے کرنے والوں کی اصلاح کی بجائے لڑکی کو ہی ڈانٹ دیا، یہی وجہ تھی کہ لڑکی نے پریشان، شرمندہ اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ انتہائی قدم اٹھا لیا۔
رپورٹ کے مطابق بچی نے متعدد بار ذہنی دباؤ کا بتانے کیلئے اشارے کیے، تاہم اسے اسکول کونسلر کی جانب بھیجنے کی بجائے گالی گلوچ کے خلاف سی بی ایس ای کے لازمی ضوابط اور رپورٹنگ کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی۔
یہی نہیں، بلکہ جس مقام سے بچی نے انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر چھلانگ لگا دی، اسے فرانزک معائنے سے پہلے دھو کر صاف کردیا گیا، جس کے نتیجے میں تحقیقات میں سنگین رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اسکول نے بچی کو صحت مندانہ ماحول فراہم نہیں کیا۔
سی بی ایس ای نے اسکول کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ نہ صرف اسکول میں حفاظتی انتظامات کا فقدان تھا بلکہ سیفٹی کمیٹی سرے سے موجود ہی نہیں تھی، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ ناکافی ہونے کے باعث بھی تحقیقات میں مسائل درپیش رہے۔
گزشتہ 18ماہ سے بچی کے والدین گالی گلوچ اور نازیبا تبصروں کی شکایت کر رہے تھے جسے اسکول انتظامیہ نے مسلسل نظر انداز کیا اور سنگین انتظامی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کو خودکشی کی جانب دھکیل دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








