ملک میں توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جولائی 2025 کے لیے ری-گیسِیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس کمپنی کے صارفین کے لیے قیمت میں 1.72 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کمی کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 11.57 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے صارفین کے لیے 2.68 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 10.57 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے۔
یہ کمی عالمی گیس مارکیٹ میں حالیہ استحکام اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے، جو عام صارف کے لیے ایک وقتی ریلیف ہے۔
جہاں ایک طرف گیس سستی ہوئی ہے، وہیں دوسری جانب عوام کو پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6.50 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کی حتمی منظوری آج دیے جانے کا امکان ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمت میں کمی صنعتوں اور سی این جی صارفین کے لیے خوش آئند ہے، مگر پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور مہنگائی کے دیگر شعبوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








