وزارت خزانہ نے مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد سرکاری کمپنیوں کے نقصانات کے باعث قومی خزانے کو مجموعی طور پر 833 ارب روپے کا جھٹکا لگا۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو ہوا جس کا حجم 295 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ اسی طرح کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کو 112 ارب 70 کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو 92 ارب 70 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ریلوے کو 60 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ نیشنل پاور پارکس کمپنی 46 ارب روپے خسارے میں رہی جبکہ نیلم جہلم پاور کمپنی کو 29 ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کو 26 ارب روپے، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کو 25 ارب 31 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔ پاکستان پوسٹ 19 ارب 30 کروڑ روپے اور پاسکو 19 ارب روپے نقصان میں رہی۔ اسی طرح حیسکو کو 13 ارب اور لیسکو کو 12 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
دیگر اداروں میں جنکو ٹو کو 10 ارب روپے، نیشنل انشورنس کارپوریشن کو 3 ارب روپے جبکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو 2 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔
دوسری جانب کچھ سرکاری اداروں نے منافع بھی کمایا۔ آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی نے 170 ارب روپے کا منافع حاصل کیا۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ 90 ارب روپے جبکہ واپڈا نے 56 ارب 70 کروڑ روپے کا منافع رپورٹ کیا۔ گورنمنٹ ہولڈنگ کمپنی کو 48 ارب روپے، کراچی پورٹ ٹرسٹ کو 35 ارب 50 کروڑ روپے اور پورٹ قاسم اتھارٹی کو 35 ارب روپے سے زائد کا منافع ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال 2023-24 میں بھی سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 851 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری کمپنیوں کی مالی کارکردگی بدستور تشویشناک ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








