وفاقی حکومت کا تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

تحریکِ انصاف پر پابندی
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ  نے کہا کہ پاکستان اور پی ٹی آئی ایک ساتھ نہیں چلیں گے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ملک کے ساتھ بہت کھلواڑ ہوچکا۔ تحریکِ انصاف اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہم تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے والے ہیں۔نیب پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ نیب توشہ خانہ کیسز سے پیچھے ہٹ جائے۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے کرتوت نکلے تو اربوں روپے کے توشہ خانہ کے تحائف ہیں۔ آپ چیئرمین نیب کو ہدف بنا رہے ہیں، پوری ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ چیئرمین نیب نے کسی کاروباری شخص کو ٹارگٹ نہیں کیا۔

پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ سناتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ملک کے ساتھ بہت کھلواڑ ہوچکا، اب کہنا چاہتے ہیں کہ نو مور۔ عدالت سے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔ وفاقی حکومت نے تحریکِ انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ اتحادیوں سے مشاورت کے بعد کیا۔

وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا کہ یہ مادر پدر آزاد لوگ ہیں اور جو صرف من مانی پر اترے ہوئے ہیں کہ ہم نے ملک کو تباہ کرنا ہے کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں۔ ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ خان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ آپ نے ٹھیک کہا ہے۔ آج حکومت نے بڑے فیصلے کیے ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ کیا فیصلہ ہوچکا ہے کہ آئین جو مرضی کہے، ایک پارٹی کو وہ دیا جائے گا جس کا اسے حق نہیں۔ہم عمران خان، سابق صدر عارف علوی، سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری پر آرٹیکل 6 کے تحت کیس چلائیں گے تاکہ آئندہ کوئی شخص آئین توڑنے یا ممنوعہ فارن فنڈنگ لینے کا نہ سوچے۔

Related Posts