حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بند کرنے کا عندیہ، لاکھوں مستحقین متاثر ہونے کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

PM Shehbaz Pushes for Cashless Pakistan, Digital Wallets for BISP Beneficiaries Rolled Out
FILE PHOTO

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو موجودہ شکل میں جاری رکھنا ممکن نہیں اور اسے ختم کرنے یا اس میں بڑی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سے اس پروگرام پر بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے جو ملک کے حالات کے پیش نظر مناسب نہیں سمجھی جا رہی۔

 

غریدہ فاروقی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بی آئی ایس پی کو موجودہ صورت میں برقرار رکھنے کے بجائے اسے بے نظیر روزگار اسکیم یا ہنرمند اسکیم کی شکل دینا زیادہ مؤثر ہوگا تاکہ مستحقین کو مستقل روزگار اور ہنر مندی کے ذریعے سہارا دیا جا سکے۔

ان کے مطابق اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے بھی بات چیت ہو چکی ہے، جو اصلاحات پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بی آئی ایس پی کا استعمال نہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے ہونا چاہیے کیونکہ اس پروگرام کی اصل روح صرف مالی معاونت تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے عملی طور پر خود کفالت کے مواقع فراہم کرنے کی سمت میں آگے بڑھانا ہوگا۔

بی آئی ایس پی کے نام پر کٹوتی کا طوفان؛ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے 10 ہزار روپے ماہانہ کاٹے جائیں گے

یہ عندیہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بی آئی ایس پی کو ختم کیا گیا یا اس میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں تو ملک بھر کے لاکھوں مستحق خاندان متاثر ہوں گے، جو برسوں سے اس پروگرام پر اپنے گھروں کے چولہے جلانے کے لیے انحصار کر رہے ہیں۔

عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ ایک بڑا قومی موضوع بننے کا امکان ہے۔

Related Posts