وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو موجودہ شکل میں جاری رکھنا ممکن نہیں اور اسے ختم کرنے یا اس میں بڑی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سے اس پروگرام پر بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے جو ملک کے حالات کے پیش نظر مناسب نہیں سمجھی جا رہی۔
سینیٹر رانا ثنااللّہ خان کا بڑا بیان!!! ‼️‼️‼️
بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کیا جائے اسے reform کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے بےنظیر روزگار سکیم یا ہنرمند سکیم بنایا جائے۔ بہت بڑی رقم وفاق دیتا ہے جو مناسب نہیں۔ اس پر پارلیمنٹ میں بات ہو گی۔ پیپلزپارٹی کے بڑوں سے بات ہوئی ہے وہ اس…
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) September 17, 2025
غریدہ فاروقی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بی آئی ایس پی کو موجودہ صورت میں برقرار رکھنے کے بجائے اسے بے نظیر روزگار اسکیم یا ہنرمند اسکیم کی شکل دینا زیادہ مؤثر ہوگا تاکہ مستحقین کو مستقل روزگار اور ہنر مندی کے ذریعے سہارا دیا جا سکے۔
ان کے مطابق اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے بھی بات چیت ہو چکی ہے، جو اصلاحات پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بی آئی ایس پی کا استعمال نہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے ہونا چاہیے کیونکہ اس پروگرام کی اصل روح صرف مالی معاونت تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے عملی طور پر خود کفالت کے مواقع فراہم کرنے کی سمت میں آگے بڑھانا ہوگا۔
یہ عندیہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بی آئی ایس پی کو ختم کیا گیا یا اس میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں تو ملک بھر کے لاکھوں مستحق خاندان متاثر ہوں گے، جو برسوں سے اس پروگرام پر اپنے گھروں کے چولہے جلانے کے لیے انحصار کر رہے ہیں۔
عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ ایک بڑا قومی موضوع بننے کا امکان ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








