سندھ کابینہ نے اسکولوں میں طلبہ کی حاضری بہتر بنانے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل حاضری نظام منظور کیا ہے جس میں ہر طالب علم کو منفرد شناختی نمبر دینے اور موبائل ایپ کے ذریعے روزانہ نگرانی کا طریقہ شامل ہوگا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر حاضری میں کمی لانا اور اسکول چھوڑنے والے طلبہ کی شرح کو کم کرنا ہے تاکہ صوبے بھر میں تعلیمی نظام کی نگرانی زیادہ مؤثر اور بروقت ہو سکے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم کے بارے میں متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔
ترجمان کے مطابق حکومت اس نئے نظام کے ذریعے اسکولوں میں غیر حاضری اور ڈراپ آؤٹ کے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ہر طالب علم کو ایک الگ شناختی نمبر جاری کیا جائے گا جبکہ حاضری کو روزانہ موبائل ایپ کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ مسلسل غیر حاضری کی صورت میں اساتذہ کو خودکار الرٹس موصول ہوں گے جبکہ پورے صوبے اور اضلاع کی سطح پر لائیو ڈیش بورڈز کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔
یہ پورا نظام اساتذہ کے ذاتی موبائل فونز کے ذریعے چلایا جائے گا اور اس سے متعلق ڈیٹا کے اخراجات اسکولوں کے بجٹ میں شامل کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ کو ایک اور تجویز پر بھی بریفنگ دی گئی جس کے تحت سرکاری جامعات کے طلبہ کے لیے بیس ہزار اسکالرشپس شروع کرنے کا منصوبہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت کے مطابق تکنیکی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
اس سے قبل سندھ حکومت نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں میں یونیفارم اور درسی کتابوں کی فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








