کیا حکومت نے واٹر ٹیکس میں 800فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

کراچی: حکومت کا واٹر ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ مراد علی شاہ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کیلئے ٹیکس 800فیصد تک  بڑھ جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی (سیڈا) نے 3 واٹر بورڈز کو 18 مارچ کو واٹر ٹیکس کے نظر ثانی شدہ ریٹس کا اطلاق کرنے کا حکم دے دیا جبکہ مذکورہ بورڈز حیدر آباد کے واسا سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں پانی کے معاملات پر نظر رکھتے ہیں۔

نجی نیوز ویب سائٹ (پروپاکستانی) کی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے واٹر بلز میں یکمشت بھاری بھرکم اضافہ گزشہ 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے۔ سیڈا کے ترجمان حزب اللہ منگریو کا کہنا ہے کہ حکومت 1000گیلن کے گھریلو صارفین سے 0.5روپے لے رہی تھی۔

ترجمان سیڈا نے کہا کہ انڈسٹریل صارفین کو 1000 گیلن کا 1روپیہ دینا پڑتا تھا، تاہم مجوزہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے بعد گھریلو صارفین کو 1000گیلن کیلئے 4روپے جبکہ کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کو 8روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی جو یکمشت 800فیصد اضافہ بنتا ہے۔

خیال رہے کہ موجودہ سندھ حکومت کی آمد سے قبل نگران سندھ حکومت نے 20فروری کو ایک اجلاس کے دوران پانی کی قیمتوں میں مذکورہ بالا ہوشربا اضافے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا اور تمام متعلقہ کمشنرز، ڈی سیز اور محکموں کو اس کی اطلاع دے دی گئی تھی۔

Related Posts