اسلام آباد: وفاقی حکومت نے حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے لگژری اشیاء پر سیلاب لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ مجوزہ ٹیکس صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے اور منظوری کے بعد اسے فوری طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس نئے ٹیکس کے تحت درآمدی لگژری آئٹمز پر اضافی چارجز عائد کیے جائیں گے جن میں گاڑیاں، برقی آلات، سگریٹ کے پیکٹس اور دیگر غیر ضروری مہنگی اشیاء شامل ہیں۔ سگریٹ پر فی پیکٹ 50 روپے اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
حکومتی اندازے کے مطابق، اس اقدام سے 50 ارب روپے سے زائد کی رقم حاصل ہونے کی توقع ہے، جو سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر، زراعت، اور رہائشی مکانات کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔
یہ اقدام حکومت کی جانب سے جاری بحالی اور ریلیف پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد ان ہزاروں خاندانوں کو مدد فراہم کرنا ہے جو سیلاب کے دوران گھر، روزگار، اور زمینوں سے محروم ہو گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کو قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ حاصل شدہ فنڈز صوبائی حکومتوں میں شفاف طریقے سے تقسیم کیسے کیے جائیں گے۔ شفافیت اور منصفانہ استعمال وفاقی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو گا۔
حکومت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب حالیہ سیلابوں نے 822 ارب روپے سے زائد کے مالی نقصانات پہنچائے، جن میں فصلوں، سڑکوں، اور عوامی سہولیات کو شدید نقصان شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلاب لیوی کو عارضی اقدام کے طور پر نافذ کیا جائے گا، تاکہ ضروری فنڈز حاصل کیے جا سکیں بغیر بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیے۔
یہ اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بیرونی قرضوں کے بجائے خود انحصاری کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اگر صدر مملکت کی منظوری مل گئی تو یہ ٹیکس سرکاری نوٹیفکیشن کے فوراً بعد نافذ العمل ہو جائے گا، جو کہ قومی بحالی اور خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








