کراچی: صوبہ سندھ میں ڈینگی وائرس نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے جہاں گزشتہ چند ہفتوں میں کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مزید دو اموات کی تصدیق کے بعد سندھ میں ڈینگی سے جاں بحق افراد کی سرکاری تعداد تین ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں چار سالہ بچی شامل ہے جس کا تعلق کورنگی سے تھا اور وہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی میں زیر علاج تھی۔
بچی کو 17 اکتوبر کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ کیپلری لیک سنڈروم کے باعث جاں بحق ہو گئی۔ دوسرا مریض ایک پچاس سالہ شخص تھا، جس کا تعلق بھی کراچی سے بتایا گیا ہے۔
ڈاکٹر مشتاق علی شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے ویٹر بُورن ڈیزیزز سندھ نے تصدیق کی کہ یہ اموات زیرِ تفتیش ہیں اور اکثر کیسز میں مریضوں کی پہلے سے موجود بیماریوں بھی اموات کی وجہ بنتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں کراچی اور حیدرآباد میں ڈینگی کیسز کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
ایک سابقہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں ایک خاتون کو ڈینگی سے جاں بحق قرار دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ زچگی کے دوران خون بہنے سے انتقال کر گئیں، اگرچہ ان کا ٹیسٹ ڈینگی پازیٹو آیا تھا۔
ڈاکٹر مشتاق نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی آگاہی کی کمی اور احتیاطی اقدامات کے فقدان کے باعث وبائی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں مچھر کی افزائش روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے سبب خطرہ بڑھ رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سندھ میں اب تک 1,083 ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تاہم اسپتالوں اور لیبارٹریوں کے ریکارڈ سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ہفتوں میں یہ تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ مون سون سیزن میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








