حکومت کا غیرقانونی سگریٹ کی روک تھام کیلئے کارروائی کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

سگریٹ
(فوٹو: آن لائن)

حکومتِ پاکستان نے ملک میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت روکنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ کارروائیوں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم اس پس منظر میں اٹھایا گیا ہے کہ غیر قانونی تمباکو مصنوعات کی تجارت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس رجحان نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی انتظامیہ ٹیکس سے بچنے والے سگریٹ برانڈز کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کرے گی۔ ان کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی فروخت پر قابو پانا اب ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس سے قومی محصولات کو بڑا دھچکا لگ رہا ہے اور وہ کمپنیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں جو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں کئی غیر قانونی فیکٹریوں کو بند کیا جا چکا ہے، جبکہ ایسے دکانداروں کے خلاف بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں جو بغیر ٹیکس والے سگریٹ فروخت کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی تاکہ غیر قانونی سپلائی چین کو ختم کیا جا سکے۔

آکسفورڈ اکنامکس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور یہ مجموعی مارکیٹ کے نصف سے بھی زیادہ حصے پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً 80 ارب سگریٹ استعمال ہوتے ہیں، جن میں سے 43.5 ارب سگریٹ غیر قانونی ذرائع سے فراہم کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ غیر قانونی سگریٹ کا بڑا حصہ ملک کے اندر ہی تیار کیا جاتا ہے، خصوصاً آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں۔ اس کے علاوہ ایک قابلِ ذکر مقدار افغانستان کے راستے اسمگل ہو کر پاکستان میں داخل ہوتی ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں ان کی دستیابی بڑھ جاتی ہے۔

دستاویز کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 274 سے 343 ارب روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ نقصان بعض صورتوں میں قانونی سگریٹ سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

Related Posts