گریٹر اسرائیل توراتی منصوبہ ۔۔۔8 ممالک کو ہڑپ کرنے کی تیاری اور دجال کی آمد

تازہ ترین

تازہ ترین

Who Was the Lone Warrior Who Stood Against the Tank?

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے بدھ کے روز گریٹر اسرائیل کے نظریئے کا اعلان کرکے خطے میں ہلچل مچا دی ہے،دراصل یہ کوئی نیا شوشا نہیں بلکہ یہودیوں کا ایک مسلمہ توراتی منصوبہ ہے جو تلمودی روایت کی بنیاد پر توسیع پسندانہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

نتن یاہو نے چند سال قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو اس کے سو سالہ عہد تک لے جائے گا اور پھر 22 ستمبر 2023 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گریٹر اسرائیل کا نقشہ پیش کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔

یہ منصوبہ اسرائیلی سخت گیر دائیں بازو کی حمایت یافتہ ہے، جو آج نتن یاہو کے ساتھ اتحادی ہے۔ اسے 2016 میں یروشلم کے انتہا پسند رہنما یہودیہ ہاؤس کے سربراہ یٹسیل سموتریچ نے پیش کیا تھا، جب وہ کنیسٹ کا رکن تھا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں اس نے کہا کہ اسرائیل کی سرحدیں دمشق تک ہونی چاہئیں اور سات دیگر عرب ممالک کے کچھ حصے شامل ہونے چاہئیں۔شام، لبنان، اردن، عراق، مصر کا ایک حصہ اور سعودی عرب تاکہ نیل سے فرات تک صہیونی خواب پورا ہو سکے۔

اب یہی سموتریچ نتن یاہو کی حکومت میں وزارت خزانہ کے عہدے پر فائز ہے، اس نے یہ نظریہ مارچ 2023 میں پیرس میں ایک تقریر میں دوبارہ دہرایا۔ اس موقع پر اس کے سامنے ایک نقشہ رکھا گیا تھا جس میں اسرائیل کی زمین دکھائی گئی تھی اور اس میں تاریخی فلسطین کے علاوہ اردن کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

توراتی نظریہ اور گریٹر اسرائیل
گریٹر اسرائیل کا منصوبہ لیکوڈ پارٹی نے اس وقت سے پیش کرنا شروع کیا جب مناخیم بیگن نے 1977 میں اسرائیل کی قیادت سنبھالی۔ اس نے اس نظریے کو ایک سیاسی پروگرام میں تبدیل کیا جو دراصل اس سے کئی سال پہلے جنم لے چکا تھا۔

اس پروگرام کے تحت مغربی کنارے کو توراتی نام یہودا اور سامرا دیا گیا اور یہودی بستیوں کی تعمیر کو فروغ دیا گیا۔ انتہا پسند دائیں بازو کے حامی، جو اس توراتی عقیدے کو اپناتے ہیں، اپنی حمایت کے لیے تورات کی اہم آیات، خاص طور پر سفر پیدائش کے حوالے استعمال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ صہیونی رہنما بھی اسرائیل کی سرحدوں کو مشرق وسطیٰ کے وسیع حصوں تک بڑھانے کے حامی ہیں۔ اس نظریے کی ایک مثال داؤد بن گوریون، اسرائیل کے بانیوں میں سے ایک نے 1937 اور 1938 میں دی۔

اس نے لکھا کہ ریاست قائم کرنا، چاہے زمین کے ایک چھوٹے حصے پر ہی کیوں نہ ہو، ہماری موجودہ طاقت کو مضبوط کرتا ہے اور ہماری تاریخی کوششوں کو آگے بڑھاتا ہے۔ ہم پر عائد حدود کو توڑ دیں گے، ضروری نہیں کہ یہ جنگ کے ذریعے ہو۔

تاریخی طور پر اس منصوبے کی جڑیں مذہبی عقائد میں پیوست ہیں، جو کہتے ہیں کہ وعدہ کی گئی زمین ندی نیل (مصر) سے لے کر ندی فرات (سوریا اور عراق) تک پھیلی ہوئی ہے۔

اسرائیلی ادارے تورا اور زمین کے مطابق بڑے اسرائیل کی زمین مشرق میں فرات سے جنوب میں نیل تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ وہی بات ہے جو صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرتزل نے 1904 میں اپنے توسیع پسند منصوبے کے اعلان کے وقت کہی تھی۔

یہ عقائد صہیونی رہنماؤں نے 120 سال سے زیادہ عرصے سے مضبوط کیے اور عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ اسی طرح، صہیونی انتہا پسند گروہ ارگون ، جو برطانوی انتداب کے دوران (1922-1948) فلسطین میں سامنے آیا اور بعد میں اسرائیلی فوج میں شامل ہوا، نے تاریخی فلسطین اور اردن کو یہودی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا۔

نتن یاہو آج اس توراتی عقیدے کو زمین پر عملی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی نسل کشی کی جنگ کے دوران اور اس کے بعد شام کی فوجی قوت کو نشانہ بنانے، شام کے نظام کے زوال (دسمبر 2024) اور وہاں کے بحرانوں اور لبنان پر جنگ کے تناظر میں۔

نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل کبریٰ یہودی تاریخ کا دیرینہ خواب ہے، جس کی تکمیل مختلف مراحل میں ہو رہی ہے۔ پہلا مرحلہ پہلی نسل نے مکمل کیا، جب 1947ء کے اقوامِ متحدہ کے قراردادِ تقسیم (181) میں فلسطین کے ایک بڑے حصے کو نگل کر اسرائیل قائم کیا گیا۔

اب نیتن یاہو کی نسل کا کام اس ریاست کو برقرار رکھنا اور اسے مزید وسعت دینا ہے، تاکہ یہ دونوں نیلی پٹیوں (اسرائیلی پرچم کی) کے درمیان پھیلی ایک تاریخی و روحانی ریاست بن سکے۔

اسرائیل میں دائیں اور بائیں بازو سمیت تقریباً تمام سیاسی دھڑوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ یہ ریاست دریا سے سمندر تک ہونی چاہیے۔

یہی پالیسی 2018ء کے قانونِ قومیت اور حالیہ کنیسٹ کی قرارداد میں جھلکتی ہے، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کیا گیا۔ انتہاپسند وزیر سموتریچ کے مطابق دو ریاستی حل محض ایک فریب ہے، جبکہ جدعون ساعر اسے اسرائیل کے لیے خودکشی قرار دیتا ہے۔

اسرائیل کے عملی اقدامات اس کے زبانی دعووں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں، بلکہ آگے ہیں۔ غزہ میں نسل کشی، جبری ہجرت اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے تیسرے ممالک کی تلاش، یہ سب اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔

مغربی کنارے میں بھی حالات مختلف نہیں، القدس کی یہودکاری، العیزریہ اور بدوی دیہات میں معاندانہ اقدامات، E1 علاقے میں 3401 رہائشی یونٹس کی تعمیر اور فلسطینی بستیوں کا جغرافیائی اتصال توڑنے کی پالیسی جاری ہے۔

یہ سب کچھ عسکری دباؤ، مالیاتی و معاشی گھیراؤ، اور نسلی امتیاز پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے ہو رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ فلسطینی زمین اسرائیل کے قبضے میں اور زیادہ سے زیادہ فلسطینی اپنی سرزمین سے بے دخل ہو جائیں۔

اس دوران فلسطینی اتھارٹی جو محض بقا کی کوشش میں اپنے تمام سفارتی کارڈ کھیل چکی ہے، اپنی وقعت اور اثر کھو رہی ہے، کیونکہ اسرائیل کا اصل مقصد فلسطینی ریاست کے خواب کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے، چاہے وہ کتنی ہی محدود اور خودمختاری سے محروم کیوں نہ ہو۔

نتن یاہو اور بڑا اسرائیل کا نقشہ
نتن یاہو نے اسرائیلی چینل آئی 24 سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی خواب ایک ایسی نسلی ذمہ داری ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی ہے۔ اس کے بقول، وہ اس مشن کو اپنے لوگوں کے لیے روحانی اور تاریخی فریضہ سمجھتا ہے۔ نتن یاہو کی جانب سے پیش کی جانے والی بڑے اسرائیل کا نقشہ درج ذیل علاقوں کو شامل ہے:

تاریخی فلسطین: کل رقبہ 27,027 مربع کلومیٹر

لبنان: 10452 مربع کلومیٹر

اردن: 89,213 مربع کلومیٹر

شام : 185,180 مربع کلومیٹر میں سے 70 فیصد سے زیادہ

عراق: 438,317 مربع کلومیٹر میں سے نصف

سعودی عرب: تقریباً ایک تہائی، کل رقبہ 2,149,690 مربع کلومیٹر

مصر: تقریباً ایک چوتھائی، تقریباً 1000000 مربع کلومیٹر

کویت: جزوی حصہ، کل رقبہ 17,818 مربع کلومیٹر

یہ نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ نتن یاہو کی توسیع پسندانہ نظریہ کس حد تک وسیع اور خطرناک ہے کیونکہ یہ موجودہ آٹھ عرب ممالک کی سرزمین پر محیط ہے۔

یہ حیران کن نہیں تھا کہ اسرائیل میں مذہبی صہیونیت اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنما بارہا اپنے اس خواب کے اظہار میں کوئی جھجک محسوس نہ کریں، جسے وہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ اور ’’ارضِ موعود‘‘ کا نام دیتے ہیں، خصوصاً اس وقت سے جب سے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی جنگ کا آغاز ہوا ہے۔

اس سے قبل یہ بیانات زیادہ تر اسی انتہا پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والے وزراء اور کنیست کے اراکین تک محدود رہے اور اسرائیل کے حامی حلقے اسے جواز فراہم کرتے رہے کہ یہ حکومتِ اسرائیل کا باضابطہ مؤقف نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کی اسٹرٹیجک سوچ میں کوئی بنیادی تبدیلی کی علامت بھی نہیں۔

اب یہ سرکاری بیانیہ بن کر سامنے آیا ہے۔ جس میں پہلی بار اعلیٰ ترین قیادت کی سطح پر مذہبی صہیونیت کے اس نظریئے کو اختیار کیا گیا ہے، جو اپنے اردگرد کے عرب ہمسایوں کی موجودگی میں اسرائیل کا کوئی مستقبل نہیں دیکھتا، بلکہ ایک ایسی توراتی سلطنت کا خواب بُنتا ہے جس کی بنیاد ارضِ موعود، مسیحِ موعود، قیامت اور ’’سنہری ہزار سالہ دور‘‘ سے متعلق یہودی اساطیر پر ہے۔

انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ خود کو ایک تاریخی اور روحانی مشن پر محسوس کرتا ہے، جو یہود کی نسل در نسل جدوجہد اور عقیدے سے جڑا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ وہ یہاں ’’یہودی نسلوں کے مینڈیٹ‘‘ کے تحت موجود ہے۔

جب صحافی نے اس سے پوچھا کہ آیا اس میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے قیام کا تصور بھی شامل ہے تو اس نے پُر اعتماد انداز میں ہاں میں جواب دیا۔ اس کے بعد اسرائیلی اخبار زمان یسرائیل نے نمایاں سرخی شائع کی: ’’نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ایک تاریخی و روحانی مشن پر ہے اور گریٹر اسرائیل کے تصور سے متفق ہے‘‘۔

نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے اس تصور سے گہری وابستگی رکھتا ہے، جو نہ صرف اس خطے کو شامل ہے جہاں مستقبل میں اوسلو معاہدے کے تحت ایک فلسطینی ریاست قائم ہونی تھی بلکہ اس میں اردن اور مصر وغیرہ کے حصے بھی شامل ہیں۔

انٹرویو کرنے والے صحافی شارون گال خود اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کا ایک جانا پہچانا چہرہ ہے، جو ماضی میں اویگڈور لیبرمین کی قیادت والے انتہا پسند جماعت اسرائیل بیتنا کا رکنِ کنیست رہ چکا ہے۔

دوران انٹرویو شارون گال نے نیتن یاہو کو ایک تحفہ پیش کیا، جو اس کے اپنے بقول اُن خوابوں میں سے ایک کی علامت تھا جو اس نے تمام عمر دیکھے تھے۔ یہ تحفہ دراصل ’’ارضِ موعود‘‘ کا نقشہ تھا، جو ایک تعویذ کی شکل میں تھا اور جسے انتہا پسند دائیں بازو کے حامی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

اس نقشے میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ یعنی ’’ارضِ موعود‘‘ کی وہ حدود دکھائی گئی تھیں جو نیل سے فرات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ تحفہ دیتے ہوئے گال نے نیتن یاہو سے پوچھا: ’’کیا آپ اس تصور پر یقین رکھتے ہیں؟‘‘ یعنی ’’ارضِ موعود‘‘ اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے خواب پر۔ اس پر نیتن یاہو نے لگاتار دو مرتبہ جواب دیا: ’’بہت زیادہ‘‘۔

اس منظر کی دو ممکنہ تشریحات ہو سکتی ہیں۔ پہلا یہ کہ نیتن یاہو اور شارون گال نے پہلے سے اس مکالمے کا خاکہ تیار کر رکھا تھا تاکہ نیتن یاہو اپنے نئے رجحانات کو عوام کے سامنے اس انداز میں ظاہر کرے کہ یہ ایک فطری اور بے ساختہ اعتراف محسوس ہونہ کہ طے شدہ اعلان۔

یہ بات نیتن یاہو جیسے شخص کے بارے میں بعید نہیں، کیونکہ اس کی شہرت چالاکی اور سیاسی مکر کے حوالے سے پرانی ہے۔ اس صورت میں، نیتن یاہو نے یہ موقع اس لیے استعمال کیا کہ وہ خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کر سکے، جو پہلی بار اپنی اندرونی سوچ اور تورات سے جڑے وژن کو بے نقاب کر رہا ہے اور جو اس بات سے نہیں ہچکچاتا کہ اپنے نظریے کو واضح کر دے۔

یہ طرزِ عمل غالباً مذہبی صہیونی طبقے میں اپنی مقبولیت مزید بڑھانے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر غزہ نسل کشی کے دوران۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ نیتن یاہو اس سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا اور اچانک ایسی صورتحال سے دوچار ہوا، جہاں اسے دو میں سے ایک راستہ اختیار کرنا تھا: یا تو وہ اپنی پارٹی اور ریاست کی معروف سیکولر قومی شناخت پر قائم رہتا یا پھر مذہبی تورات والے اس بیانیے کو اپناتا جو اس وقت دائیں بازو کے مذہبی حلقوں، بالخصوص مذہبی صہیونیت میں تیزی سے غالب آ رہا ہے۔

اس صورت میں، شارون گال نے بڑی ہوشیاری سے ایک ایسا سوال کیا جو نیتن یاہو کو اس کے ذاتی اور سیاسی عقیدے کے اصل خدوخال کھولنے پر مجبور کر دے اور یوں دائیں بازو کے انتہا پسند بیانیے سے اس کی فکری و روحانی وابستگی واضح ہو جائے۔

نیتن یاہو اپنی اس معروف مہارت کے لیے مشہور ہے کہ وہ کسی بھی ناگوار صورتِ حال سے بچ نکلنے یا کسی غیر محتاط بیان سے دامن جھاڑ لینے میں دیر نہیں لگاتا۔

وہ اکثر اپنی حکومت کے مذہبی صہیونی دھڑے کے وزراء، خاص طور پر متنازع شخصیات سموتریچ اور ایتمار بن گویر کے ان بیانات سے خود کو الگ رکھتا آیا ہے جن میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے خواب، مسجد اقصیٰ پر قبضے، مغربی کنارے کے الحاق اور اردن، لبنان، مصر و شام سمیت دیگر عرب علاقوں پر تسلط کی بات کی جاتی ہے۔

اس انٹرویو میں اور خاص طور پر شارون گال کی جانب سے دی گئی ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے تصور سے جڑی ’’تحفہ‘‘ نما علامت کے سامنے، نیتن یاہو کے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو وہ حسبِ عادت بات کو گھما پھرا کر ٹال دیتا اور اسرائیل کی اس سیکولر شبیہ کو محفوظ رکھتا جس پر اسرائیلی قیادت، ڈیوڈ بن گوریون کے دور سے فخر کرتی آئی ہے، یا پھر اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اسے ایک سنگِ میل بنا دیتا اور کھل کر مذہبی صہیونیت کے نظریئے کی مکمل تائید کرتا۔

اس نے گویا دوسرا راستہ اختیار کیا اور اس کے ساتھ اسرائیل کی سرکاری پالیسی کو اس توراتی اساطیری بیانیے سے ہم آہنگ کر دیا جسے مذہبی صہیونی دھڑا برسوں سے پھیلا رہا ہے۔ یہ قدم ایک ایسی نئی تھیوکریٹک (مذہبی بنیادوں پر قائم) ریاست کے اعلان کے مترادف ہے جو یورپی ماڈل کی سیکولر شبیہ سے بہت دور ہے، وہ شبیہ جسے اسرائیلی قیادت طویل عرصے تک دنیا کے سامنے پیش کرتی رہی۔

چاہے یہ نیتن یاہو کی مقامی دائیں بازو کی سیاست میں مقبولیت بڑھانے کی کوشش ہو یا دنیا بھر میں اسرائیل کے انتہا پسند مسیحی حامیوں کو مزید متوجہ کرنے کا حربہ، بہرحال اس انٹرویو نے اسرائیلی بیانیے میں ایک واضح اور خطرناک موڑ کو ظاہر کر دیا ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مذہبی صہیونیت کا سیاسی سفر دراصل لیکوڈ پارٹی کے اندر سے ہی شروع ہوا تھا۔ ایک طرف لیکوڈ نے اس دھڑے کی قوت اور عوامی رسوخ سے فائدہ اٹھایا، تو دوسری طرف مذہبی صہیونی دھڑے نے بھی لیکوڈ کے پلیٹ فارم اور اثر و رسوخ کو اپنے ایجنڈے کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔

تقریباً ایک دہائی تک دونوں نے ایک دوسرے کی طاقت اور ایک حد تک نظریاتی قربت سے فائدہ اُٹھایا۔ اس دوران مذہبی صہیونیت سے تعلق رکھنے والے کئی افراد لیکوڈ میں شامل ہوئے، انہوں نے پارٹی کے اندر اپنے نظریات پھیلائے اور آہستہ آہستہ لیکوڈ کے سیاسی رخ کو مذہبی صہیونیت کی طرف موڑنے میں کامیابی حاصل کی۔

بعد ازاں جب اس دھڑے کے رہنماؤں کو یقین ہو گیا کہ ان کی عوامی مقبولیت انہیں سیاسی خودمختاری دے سکتی ہے، تو انہوں نے اپنے الگ جماعتی ڈھانچے تشکیل دیئے، جن میں سموتریچ کی قیادت میں مذہبی صہیونیت پارٹی اور ایتمار بن گویر کی قیادت میں یہودی طاقت پارٹی شامل ہیں۔ تاہم اس علیحدگی کے باوجود یہ دھڑا لیکوڈ کی صفوں سے غائب نہیں ہوا۔

آج بھی اس کے حامی پارٹی میں خاصے فعال ہیں، جیسے وزیر برائے علاقائی تعاون دودی امسالم، رکنِ کنیست عميت ہاليفي (جو مسجد اقصیٰ کی تقسیم کے منصوبے کا مرکزی محرک ہے)، مائی گولان، نسیم فیٹوری، اریئیل کیلنر اور اویخای بوآرون۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کے حالیہ بیانات دراصل اس کے اس دھڑے میں مکمل شمولیت کا اعلان ہیں، جس کے ذریعے وہ عملاً تسلیم کر رہا ہے کہ لیکوڈ پارٹی اب مذہبی صہیونیت کے نظریاتی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہے اور اس کے خیالات و مقاصد کو نہ صرف اپناتی ہے بلکہ فعال طور پر فروغ بھی دیتی ہے۔

نیتن یاہو اپنے اس انٹرویو میں کہے گئے ہر لفظ کے مضمرات سے بخوبی آگاہ تھا اور اس نے دانستہ طور پر ہر جملہ چنا۔ وہ جانتا ہے کہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ یا ’’ارضِ موعود‘‘ کا مطلب اُن ممالک کی زمینوں کو قبضہ کرنا ہے جن پر وہ ماضی میں اپنی سفارتی کامیابیوں کا فخر کرتا رہا ہے، جن میں سرفہرست اردن اور مصر ہیں، جو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے فریق ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس تصور میں سعودی عرب کے کچھ حصے بھی شامل ہیں، وہی ملک جس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی اپنی کوششوں کا نیتن یاہو بارہا تذکرہ کر چکا ہے اور اس میں لبنان، شام اور عراق بلکہ کویت بھی شامل ہیں۔

چنانچہ جب نیتن یاہو اس تصور سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتا ہے تو وہ دراصل یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ اپنے ملک کے کسی بھی سابقہ عہد یا علاقائی و عالمی معاہدے کی پابندی سے دستبردار ہو چکا ہے۔

وہ یہ ظاہر نہیں کر سکتا کہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ سے اس کی مراد اس کا روایتی یا محدود سیاسی مفہوم تھا، خاص طور پر اس لیے کہ یہ بات اس نے اس تمیمہ (تعویذ) پر تبصرے کے طور پر کہی جو شارون گال نے اسے انٹرویو کے دوران پیش کیا تھا اور جس پر ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا نقشہ موجود تھا، جس میں انہی عرب ممالک کے حصے دکھائے گئے تھے۔

نیتن یاہو کا جواب محض ایک سفارتی اظہار یا عمومی تائید نہیں تھا بلکہ ایک گہری اور غیر متزلزل عقیدت کا اعلان تھا۔ اس کا ثبوت وہ لفظ ’’بہت زیادہ‘‘ ہے، جو اس نے دو مرتبہ دہرایا اور اس کے فوراً بعد اپنے والد اور اسرائیل کے بانی نسل کی یاد میں جذباتی حوالہ دے کر اس تصور کو ایک آئیڈيولوجیکل رنگ بھی دے دیا۔

اس حقیقت کو سب سے پہلے اردن نے محسوس کیا، جس نے فوری طور پر ان بیانات پر احتجاج کیا اور انہیں مسترد کر دیا۔ یہ ردعمل اس بات کا اشارہ ہے کہ اردن نے اسے براہِ راست خطرے کے طور پر لیا، اور یہ کہ نیتن یاہو کا پیغام ٹھیک اسی طرح سمجھا گیا جیسے وہ دینا چاہتا تھا بغیر کسی لفاظی یا نرمی کے۔ خاص طور پر سرکاری سطح پر یہ معاملہ اسی شدت کے ساتھ لیا گیا۔

اسی مصر وغیرہ نے شدید مذمت کی اور اسے عرب ممالک کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ مگر ان ممالک کی طرف سے کوئی عملی لائحہ عمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی اس کی امید ہے۔

اگر عرب دنیا کا یہ کمزور اور بے اثر موقف اسی طرح برقرار رہا تو نیتن یاہو مزید سے مزید آگے بڑھے گا۔ آج جب وہ کھل کر اپنی ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی توراتی سوچ سے گہری وابستگی کا اعلان کر چکا ہے اور یہ اعلان براہِ راست ہمسایہ عرب ممالک کی سرزمین کے مقابل کیا گیا ہے، تو خاموشی اور بے عملی اسے مزید حوصلہ دے گی کہ وہ نئی سرخ لکیریں بھی عبور کر جائے۔

اس صورت میں وہ مذہبی جنون، جو آج سموتریچ، ایتمار بن گویر اور عمیحای الیاہو جیسے رہنماؤں تک محدود ہے، رفتہ رفتہ اسرائیل کی باضابطہ سرکاری پالیسی میں ڈھل سکتا ہے۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ مسلمانوں خاص کر عربوں کو جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو کا یہ متنازعہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کا بیانیہ گریٹر اسرائیل کے نام سے مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی ادارہ تورات اینڈ لینڈ انسٹیٹیوٹ اپنی ویب سائٹ پر اس دعوے کی تشہیر کرتا ہے کہ اسرائیل کی تاریخی سرحدیں مشرق میں دریائے فرات سے لے کر جنوب میں دریائے نیل تک پھیلی ہوئی ہیں، جو ایک ایسے توسیعی منصوبے کی واضح علامت ہے جو فلسطین کی تاریخی حدود سے کہیں آگے بڑھ کر عرب سرزمین کے وسیع حصے کو گھیرتا ہے۔

نیتن یاہو اور دجال:
آخر میں ایک ویڈیو کا تذکرہ، جس سے نیتن یاہو کے بیان کی ہولناکی کا اندازہ ہوسکے گا۔ الجزیرہ کے مشہور پروگرام فوق السلط نے اپنی ایک حالیہ قسط میں فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں جاری عسکری حالات پر تفصیلی گفتگو کی اور پرانے واقعات کو حالیہ واقعات سے جوڑتے ہوئے اس پس منظر کو واضح کرنے کی کوشش کی کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے۔

پروگرام کے آغاز میں ایک پرانا ویڈیو کلپ دکھایا گیا جو 1990 کا ہے، جس میں اسرائیل کا یہودی چیف ربی اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مکالمہ دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں چیف ربی نیتن یاہو سے کہتا ہے: ہم نے اپنی پچھلی ملاقات کے بعد سے کئی معاملات میں پیش رفت کی ہے، لیکن ایک بات اب تک نہیں بدلی اور وہ یہ کہ مسیحا (دجال) ابھی تک نہیں آیا؟ پھر ربی نیتن یاہو پر زور دیتا ہے کہ وہ مسیحا (دجال) کی آمد کو تیز کرنے کے لیے کچھ کرے۔

اس پر نیتن یاہو جواب دیتا ہے: ہم کام کر رہے ہیں، ہم کام کر رہے ہیں۔۔۔ پروگرام کے میزبان نزیہ الاحدب کے مطابق یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ نیتن یاہو جو کچھ کر رہا ہے، وہ محض ذاتی دشمنی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ ایک مذہبی محرک کے تحت کر رہا ہے اور یہ سب وہ انتہائی سنجیدگی اور مذہبی جذبے کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔ معاملہ نیتن یاہو اور فلسطینیوں، لبنانیوں، شامیوں، یمنیوں، ایرانیوں اور دیگر دشمنوں کے درمیان ذاتی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مذہبی مشن کا حصہ ہے۔

پروگرام میں یہودیوں کا ایک مذہبی بیانیہ اور دینی روایت بھی پیش کی گئی۔ جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ایسا شخص منتخب کیا جائے گا جسے دور والے ’’بن امین‘‘ اور قریب والے ’’بی بی‘‘ کے نام سے پکاریں گے، جو ایک ایسی عورت سے شادی کرے گا جس کا نام سارہ ہوگا اور اس سے ایک بیٹا پیدا ہوگا ہے، جسے وہ یائیر پکاریں گے اور اس شخص پر یہ ذمہ داری ڈالی جائے گی کہ وہ مسیح (دجال) کے ظہور کو تیز کرے۔

یہودیوں کی یہ مذہبی روایت ہوبہو نیتن یاہو پر فٹ ہوتی ہے۔ اس کی بیوی کا نام سارہ اور بیٹے کا یائیر ہے۔ بی بی نام بھی کسی سے مخفی نہیں۔ غزہ میں جاری خونریزی بھی اسی دجالی روایت کا شاخسانہ ہے۔

اس بیانیہ کو سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کے ایک بیان سے بھی تقویت ملتی ہے، جس میں اس نے کہا تھا کہ نیتن یاہو کی حکومت خطے میں تنازع کو اس لیے بڑھا رہی ہے تاکہ مسیحا (دجال) کے جلد ظہور کا راستہ ہموار ہو۔

Related Posts