بے امنی کے بڑھتے سائے

تازہ ترین

تازہ ترین

کچھ عرصے سے ملک بھر میں دہشت گردی کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہوتا نظر آ رہا ہے اور یہ خدشہ سر اٹھا رہا ہے کہ خدانخواستہ ملک میں ایک بار پھر امن و امان کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

گزشتہ دن میانوالی ایئر بیس جیسے انتہائی حساس فوجی مرکز پر حملہ کیا گیا، جبکہ اس سے کچھ دن پہلے بلوچستان میں پسنی سے اورماڑہ جانے والی سیکورٹی فورسز کی دو گاڑیوں پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے 14 فوجی جوانوں کو شہید کیا، ساتھ ہی انہی دنوں میں ڈیرہ اسماعیل خان اور میانوالی ہی میں دہشت گردوں کی جانب سے فورسز پر مختلف نوعیت کے حملے کیے جا چکے ہیں۔

قریب دنوں میں پے در پے پیش آنے والے دہشت گردی کے یہ واقعات حالات کی سنگینی اور خطرے کا الارم بجا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں اگرچہ فورسز کی جوابی کارروائی میں دہشت گرد بھی مارے جا رہے ہیں اور فورسز کے فوری اور بروقت رسپانس کے نتیجے میں دہشت گرد ملک، قوم اور دفاعی اداروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے اپنے مکروہ عزائم میں ناکام رہتے ہیں، جیسا کہ میانوالی ایئر بیس میں گھس کر حساس دفاعی تنصیبات اور فوجی و اسٹریٹجک اثاثوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی گھناونی کوشش کو فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی نے ناکام بنادیا اور حملہ کرنے والے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، تاہم دہشت گردوں کی جانب سے اتنے بڑے ہدف تک پہنچنا اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کم تشویشناک نہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر ملک کے کسی بھی حصے میں جب چاہیں خونی کارروائی کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
میانوالی واقعے کی ذمے داری بظاہر ایک غیر معروف شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے، اس تنظیم کا نام چند ماہ قبل ہی سامنے آیا ہے اور یہ تنظیم اس سے قبل بھی دہشت گردی کے مختلف واقعات کو اپنے نام کرچکی ہے، تاہم یہ نیا نام بجائے خود ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کا پرانا ٹولہ ہی کارفرما ہے ورنہ ایک بالکل نئی تنظیم جو پہلی بار میدان میں آئی ہو، آسانی سے اتنی بڑی کارروائیوں کی ہمت نہیں کرسکتی۔

یہ پرانا حربہ ہے کہ سیکورٹی اداروں کا ذہن بٹانے اور لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے نام بدلے جاتے ہیں اور نئے نام سے پرانے شر پسند عناصر ہی ایسی کارروائیاں کرتے ہیں۔ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا یہ کہنا درست ہے کہ ڈی آئی خان، پسنی اور میانوالی میں حملہ آور دہشت گردوں کے نام الگ ضرور ہوں گے لیکن پس پردہ دشمن ایک ہی ہے۔ صرف یہی نہیں، نئے نام کی اس تنظیم کے وجود سے پہلے بھی دہشت گردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں، کوئی شک نہیں کہ اول اس نئی تنظیم کے سلسلے کے دہشت گرد ہی ان میں ملوث رہے ہیں، ثانیاً نئی تنظیم کے لوگ نئے ہوں تب بھی دشمن پرانا اور ایک ہی ہے اور وہ ہے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دشمن۔ پہلے بھی دہشت گردی کی تمام کارروائیوں میں پاکستان اور پاکستان کے مسلمانوں کا دشمن ملوث تھا، آج بھی نام مختلف ہونے کے باوجود پاکستان کے مسلمان اس حوالے سے کلیئر ہیں کہ چہرہ اسی اسلام اور پاکستان کے دشمن کا ہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ خود تسلی کیلئے عنوان کوئی بھی رکھ دیا جائے اور جواز کیسا ہی گھڑ لیا جائے، مسلمانوں کے ملک میں دہشت پھیلانا اور نقصان پہنچانے والی کارروائیاں کرنا کسی کلمہ گو کا کام نہیں ہو سکتا۔
ایک ایسے وقت جب مسلمانان عالم کے دل غزہ میں قابض و جارح اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے چھلنی ہیں، بظاہر خود کو مسلمان کہنے والوں کی جانب سے ایک اسلامی ملک کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا، مسلم ملک میں دہشت پھیلانا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا افسوسناک اور شرمناک ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے اندر حمیت اسلامی موجود ہے اور نہ ہی انسانیت۔ یہ محض انا اور تعصب کی جنگ لڑ رہے ہیں، جس کی دینی تعلیمات میں کوئی گنجائش نہیں۔

میانوالی ایئر بیس کو جس طرح نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، ماضی کے ایسے ہی واقعات کی روشنی میں اس میں بھارتی ہاتھ ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ افواج پاکستان قابل تعریف ہیں کہ وہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کرملک اور یہاں کے باشندوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے شبانہ روز مصروف ہیں، تاہم پے در پے ہونے والے دہشت گردی کے یہ واقعات اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انٹیلی جنس کے عمل کو مزید مضبوط و مستحکم بنایا جائے تاکہ دہشت گرد پھر ایسی کوئی کارروائی کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔

Related Posts