سانحہ گل پلازہ اور بھاٹی گیٹ حادثہ! کس صوبے میں احتساب ہوا، کس میں خاموشی رہی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ (داتا دربار کے مرکزی گیٹ کے قریب) میں 28 جنوری 2026 کی شام ایک انتہائی افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ 24 سالہ خاتون سعدیہ اپنی 9 سے 10 ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ کے ہمراہ تعمیراتی سائٹ پر کھلے مین ہول (سیوریج لائن) میں گر گئیں۔ یہ جگہ داتا دربار کے قریب سیوریج لائن کی مرمت یا متعلقہ تعمیراتی کام کے دوران کھلی چھوڑ دی گئی تھی۔ حفاظتی کور غائب تھے جبکہ روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور سائٹ غیر محفوظ تھی۔

ریسکیو 1122 کو اطلاع ملتے ہی آپریشن شروع ہوا۔ خاتون کی لاش تقریباً 3 کلومیٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی جبکہ بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد سگیاں کے قریب برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر واقعہ مشکوک لگا، کیونکہ خاتون کے والد نے قتل کا الزام لگایا اور پولیس نے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا (جو بعد میں رہا ہو گئے)۔ مگر تحقیقات سے تصدیق ہوئی کہ یہ ایک حادثاتی سانحہ تھا جو انتظامی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری نوٹس لیا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا اور شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مجرمانہ غفلت اور قتل کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہر جان قیمتی ہے اور لاہور جیسے سیف سٹی میں ایسی غفلت ناقابل قبول ہے۔ ان کے سخت احکامات اور بیانات میں شامل ہیں۔

کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر، ایم ڈی واسا، ڈی جی ایل ڈی اے، اسسٹنٹ کمشنر، ٹیپا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر (زاہد حسین/زاہد عباس)، ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین، سیفٹی انچارج، کنٹریکٹر، نیسپاک سپروائزر اور دیگر کو برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

متعدد افسران کی فوری معطلی اور برخاستگی (ڈائریکٹر ٹیپا سمیت)۔

پروجیکٹ مینجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال، سائٹ انچارج احمد نواز سمیت نامزد ملزمان کی گرفتاریاں (تعزیرات پاکستان دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج)۔

کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے معاوضہ متاثرہ خاندان کو دلوانا۔

آئندہ ایسی غفلت پر سخت سزائیں، دوبارہ نوکری نہ دینے کی ہدایت، اور حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی پر زیرو ٹالرینس پالیسی۔

خاندان کو تھانے لے جا کر “چور/ڈاکو” بنا کر پیش کرنے، معاملہ گھمانے اور غیر متعلقہ پہلوؤں (جیسے میاں بیوی کے تعلقات) پر توجہ دینے کی کوششوں پر شدید تنقید۔

مریم نواز نے واضح کیا کہ سائٹ پر اندھیرا تھا، لائٹنگ نہیں تھی، پینافلیکس لگا کر سائٹ بند کی گئی مگر حفاظت کا کوئی بندوبست نہیں، غیر قانونی پارکنگ چل رہی تھی اور متعدد ادارے (واسا، ٹیپا، ایل ڈی اے، ٹریفک پولیس) ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ راجن پور یا لیہ کی بات نہیں، لاہور سیف سٹی میں ہماری ناک کے نیچے ہوا اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی۔

یہ ردعمل فوری، شفاف اور احتسابی تھا جو پنجاب حکومت کی عوامی جانوں کی حفاظت پر حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کراچی کا سانحہ گل پلازہ: 79 شہید، نااہلی اور تاخیر والا ردعمل

دوسری جانب کراچی کے مرکزی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں 17 جنوری 2026 کی رات تقریباً 10:15 بجے ایک ہولناک آتشزدگی شروع ہوئی جو پاکستان کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی عمارتوں میں آگ کا سانحہ بن گیا۔ عمارت گراؤنڈ پلس تین منزلہ تھی، جس میں تقریباً 1,200 خاندانی دکانیں (شادی کی تیاریوں، کپڑوں، کھلونوں وغیرہ) تھیں۔ آگ گراؤنڈ فلور پر ایک فلاور شاپ میں بچوں کے ہاتھوں لگی اور ایئر کنڈیشننگ کے ڈکٹس کے ذریعے تیزی سے پھیل گئی۔

فائر بریگیڈ کو اطلاع 10:26 پر ملی، پہلا ٹینڈر 10:37 پر پہنچا، مگر آگ کی شدت سے قابو پانے میں 36 سے 40 گھنٹے لگے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں میزنائن فلور پر ہوئیں جہاں لوگ پھنس گئے۔ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے مطابق 79 افراد جاں بحق ہوئے (ایک فائر فائٹر سمیت)، متعدد لاشیں شدید جھلسنے سے ناقابل شناخت تھیں اور ڈی این اے سے شناخت ہوئی۔ لاپتہ افراد کی تعداد 70 سے 86 تک رپورٹ ہوئی۔

سندھ حکومت نے ردعمل میں متاثرہ خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ روپے امداد، دکانداروں کو قرض اور کچھ افسران (جیسے سول ڈیفنس) کی معطلی کا اعلان کیا۔ جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر اپوزیشن (ایم کیو ایم، جماعت اسلامی) نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا سانحہ ایک بچے پر ڈالنا مضحکہ خیز ہے اور حکومت نااہلی، کرپشن، تاخیر سے ریسکیو اور حفاظتی نظام (فائر الارم، ایگزٹ، ہائیڈرنٹس) کی ناکامی کو چھپا رہی ہے۔ عمارت کو سیل کرنے کا عمل شروع ہوا مگر بڑے پیمانے پر برخاستگیاں یا گرفتاریاں نہیں ہوئیں۔

تجزیاتی موازنہ: قیادت کی حساسیت اور جوابدہی کا فرق

یہ دونوں سانحے عوامی حفاظت اور انتظامی ذمہ داری کی عکاسی کرتے ہیں، مگر ردعمل میں واضح تضاد ہے۔ لاہور کا واقعہ (صرف دو جانیں) پر مریم نواز کا فوری، سخت اور عوامی احتسابی رویہ، گرفتاریاں، معطلیاں، معاوضہ، اور واضح پیغام کہ ہر جان قیمتی ہے۔پنجاب میں قیادت کی متحرک اور ذمہ دارانہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کے برعکس کراچی کا سانحہ (79 شہید) پر سندھ حکومت کا ردعمل محدود، دفاعی اور تاخیر والا رہا۔ امداد کا اعلان تو ہوا مگر عملی احتساب کمزور ہے اور الزامات ہیں کہ سانحے کو مختلف زاویوں سے پیش کر کے ذمہ داری سے بچا جا رہا ہے۔ یہ نااہلی کی انتہا دکھاتا ہے۔

یہ موازنہ صوبائی حکومتوں کی ترجیحات کو اجاگر کرتا ہے: جہاں پنجاب میں قیادت عوامی مسائل پر فوری ایکشن لیتی ہے، وہاں سندھ میں بڑے سانحے پر بھی پنجاب جیسا متحرک رویہ غائب ہے۔ دونوں واقعات سے سبق یہ ہے کہ حفاظتی نظام کی عدم موجودگی اور غفلت جانیں لیتی ہے۔ احتساب اور فوری ایکشن ہی مستقبل میں ایسی ہولناکیوں کو روک سکتا ہے۔

Related Posts