معروف متنازعہ سوشل میڈیا شخصیت حکیم شہزادنے ریحان طارق شو میں شرکت کرتے ہوئے اپنی زندگی، تنازعات اور مبینہ سافٹ ویئر اپڈیٹ کے بعد آنے والی تبدیلیوں پر کھل کر گفتگو کی۔ یہ پوڈکاسٹ یوٹیوب پر نشر ہوتے ہی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔
پوڈکاسٹ کے آغاز میں میزبان ریحان طارق نے حکیم شہزاد سے سوال کیا کہ سافٹ ویئر اپڈیٹ کے بعد زندگی کیسی ہے؟
حکیم شہزاد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے، اسی کی بھینس ہے۔ میں مانتا ہوں کہ حالات نے مجھے بدل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ماضی میں جو ویڈیوز یا بیانات سامنے آئے، وہ ای آئی جنریٹڈ تھے، یعنی کمپیوٹر کے ذریعے تیار کیے گئے۔
پوڈکاسٹ کے دوران میزبان نے ان کی وہ پرانی ویڈیو چلائی جس میں وہ عوام سے معافی مانگتے نظر آ رہے ہیں۔ اس پر حکیم شہزاد نے کہا کہ یہ ویڈیو زبردستی ریکارڈ کرائی گئی تھی۔
گن پوائنٹ پر مجھ سے الفاظ کہلوائے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ویڈیوز ان کی مرضی سے نہیں بنائی گئیں اور کئی منفی مواد جعلی اور اے آئی جنریٹڈ ہے۔
میزبان نے حکیم شہزاد سے پوچھا کہ کیا ان کی پروڈکٹس کے کلینکل ٹیسٹ کرائے گئے ہیں؟انہوں نے جواب دیا کہ ابھی نہیں، لیکن عوام خود فیصلہ کرے گی کہ میری دوائیں مؤثر ہیں یا نہیں۔
پوڈکاسٹ میں انہوں نے بتایا کہ ان کا نیا لقب مارخور انہیں عبداللہ گل نے دیا ہے، جو سابق جنرل حمید گل کے صاحبزادے ہیں۔ان کے مطابق میں کافی دنوں سے ایک لیڈر کی تلاش میں تھا۔ جب عبداللہ گل صاحب سے ملا تو محسوس ہوا کہ یہی صحیح رہنما ہیں، اس لیے ان کی جماعت میں شامل ہو گیا۔
میزبان نے پوچھا کہ آپ نے کن اعمال سے توبہ کی؟ اس پر حکیم شہزاد نے کہا کہ میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر ضمیر ملامت کرے۔ ہاں کچھ الفاظ میرے منہ سے نکل گئے تھے جن پر افسوس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں جھوٹے مقدمات، جھوٹی ویڈیوز، اور سوشل میڈیا ٹرولنگ کا شکار بنایا گیا۔
پروگرام کے اختتام پر ریحان طارق نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی کی تضحیک نہیں بلکہ سچائی سامنے لانا ہے۔ حکیم شہزاد نے شو چھوڑتے وقت کہا کہ میری کوئی پروڈکٹ مارکیٹ میں موجود نہیں ہے، جو لوگ ٹن ٹن معجون کے نام پر چیزیں بیچ رہے ہیں، ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








