حماس اور دیگر تنظیموں نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کرنے والی قرارداد کیوں مسترد کردی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Hamas
(فوٹو: دی اکانومسٹ)

حماس اور دیگر  جنگجو گروہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20نکاتی غزہ منصوبے کی حمایت میں پیش کردہ قرارداد کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر غزہ کی مستقبل کی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے، جبکہ آج سلامتی کونسل میں اس معاہدے پر ووٹنگ متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سلامتی کونسل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی  امریکا اور مسلم ممالک کی قرارداد پر ووٹنگ آج ہوگی۔ سلامتی کونسل میں غزہ  میں عبوری حکومت کے قیام پر  بھی ووٹنگ ہوگی اور توقع کی جارہی ہے کہ اس میں غزہ کے دو ریاستی حل کی حمایت کی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی پربھی ووٹنگ ہوگی۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس  اور  دیگر فلسطینی  مزاحمتی گروپوں  نے غزہ  قرار داد کے مسودے کو اس لیے مسترد کردیا کیونکہ یہ قرارداد فلسطین کی فیصلہ سازی پر بیرونی قوتوں کے کنٹرول کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنے گی۔

حماس کے بیان کے مطابق قرارداد سے غزہ کی حکومت اور تعمیرِ نو غیر ملکی سرپرستی میں چلی جائے گی اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کی جارحیت کا شکار فلسطیی حقِ حکمرانی کھو بیٹھیں گے۔ غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی غیر ملکی سرپرستی سے مشروط ہے۔

اس حوالے سے حماس کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانی امداد کا انتظام اقوامِ متحدہ کے زیر نگرانی فلسطینی اداروں کے پاس ہونا چاہئے۔ غزہ کو غیر مسلح کرنے یا فلسطینیوں کا حقِ مزاحمت چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنگ بندی پر عملدرآمد اور غزہ میں عالمی امن فورس کے قیام کو قرارداد میں شامل کیا جائے۔

Related Posts